عام آدمی کی گفتگو

 

azhar mushtaqمیرے دوست ڈاکٹر صاحب بہت دلچسپ انسان ہیں۔ حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں، اخبار اور خبروں میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور اکثر ملک کے تلخ حالات پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں اور مجھے اکثر و بیشتر اْس گفتگو کا حصہ بننا پڑتا ہے۔ بعض اوقات ہماری گفتگو بحث کا روپ دھار لیتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا انداز جار حانہ ہو جاتا ہے وہ تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کرتے ہیں اور سیاسی اکابرین پر لعن طعن کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ سیاسی اکابرین کی نالائقی کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کی باتیں مدلل ہوتی ہیں وہ کڑی سے کڑی ملانے کا فن بھی جانتے ہیں مگر جب وہ عسکری قیادت کے سیاسی فیصلوں کو سراہنا شروع کرتے ہیں تو بحث میں شامل دونوں فریقین کا لہجہ تہذیب کا خط متارکہ عبور کرتے ہوئے نسبتاً غیر مہذب ہو جاتا ہے۔ ہماری بحثیں روز کا معمول ہیں کبھی چائے کی میز پر، کبھی ٹیلی ویڑن کے سامنے، کبھی اخبار کے سٹال پر اور کبھی دورانِ سفر۔ اچھی بات یہ ہے کہ ہماری کوئی بحث کبھی کسی ناخوشگوار واقعے پر اختتام پذیر نہیں ہوئی اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم دونوں کوشش کرتے ہیں کہ برداشت اور تحمل کا دامن نہ چھوڑا جائے۔ ڈاکٹر صاحب بڑے مدبرانہ لہجے میں ایک خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوئے بحث کو اکثر اِن اختتامی جملوں پر ختم کرتے ہیں، ” اگر افراد اپنی تصحیح کر لیں تو معاشرہ ٹھیک ہو سکتا ہے” یا “جیسے عوام ویسے حکمران”َ۔ میں ڈاکٹر صاحب کے دونوں اختتامی جملوں سے شدید اختلاف رکھتا ہوں مگر کسی نا خوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے خاموشی ہی میں عافیت جانتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب میرے بہترین دوست ہیں اس لئے میں دوستی کی قربانی دے کر بحث جیتنے کو فائدہ مند نہیں سمجھتا۔ ڈاکٹر صاحب تھوڑے شریر بھی ہیں وہ اکثر سیاسی موضوعات پر وہی بات کرتے ہیں جو مجھے ناگوار گزرتی ہے یا میں سیاسی طور پر اس کا حامی نہیں ہوتا، ڈاکٹر صاحب ایسا فقط اس لیے کرتے ہیں کہ گفتگو کا سلسلہ چل نکلے۔
کل ہی کی بات ہے کہ پاک روس تعاون کے نئے افق پر بات ہو رہی تھی کہ ڈاکٹر صاحب نے پھبتی کسی کہ میاں آپ سیاسی اور جمہوری حکومتوں کے طرفدار ہیں، دیکھیں سیاسی حکومت وہ کام نہ کر سکی جو عسکری قیادت نے کر دکھایا۔ عسکری قیادت روس کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کیلئے کوشاں ہے جو کام ملک کے وزیر اعظم، صدر، وزیر دفاع یا وزیر خارجہ کو کرنا چاہیے وہ عسکری قیادت کر رہی ہے۔ یہ ملک کی دفاعی حالت کو مستحکم کرنے کے لئے ایک اشاریہ ہے 150 اگر پاکستان روس اور چین کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر لیتا ہے تو تو امریکہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس پہلے کہ ڈاکٹر صاحب کا جوشِ خطابت زور پکڑتا اور وہ عسکری طرزِ حکومت کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے، میں نے پوچھا حضرت یہ بتائیے کہ اگر روس اور چین کا کردار بھی امریکی کردار سے چنداں مختلف نہ ہوا تو پھر کیا ہو گا؟
کہنے لگے میاں کم فہمی کا سوال کیا ہے تم نے، بھلا روس اور چین امریکی کردار کا اعادہ کیونکر کریں گے؟
میں نے عرض کیا حضرت میری ناقص عقل کے مطابق چین نے آج بھی پاکستانی معیشت پر اپنے مضبوط پنجے گاڑے ہوئے ہیں اور مجھے یہ بتائیے کہ روس کے حصے بخرے کرنے میں آپکی مملکتِ خداداد نے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کا ثبوت نہیں دیا تھا؟
ڈاکٹر صاحب کی پیشانی پر شکنیں ابھریں اور سرد آہ بھر کے بولے میاں دیکھو وہ بھی سیاسی قیادت کا ایک غلط فیصلہ تھا۔
میں نے کہا حضرت کیا اس وقت ملک کی باگ دوڑ واقعی سیاسی ہاتھوں میں تھی؟
بولے تو پھر ضیا صاحب کیا کرتے امریکہ کے ہاتھوں پاکستانی عوام کا قیمہ بنواتے یا سْرخ فوج کو پاکستان پر قبضے کی دعوت دیتے؟
میں نے کہا جناب اس ملک میں تاریخ کو غلط انداز میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ فکری ابہام کے مسائل بھی ہیں جن کی درستی کے بغیر سماجی ارتقا کا سفر طے کرنا خاصا مشکل ہے۔
رنجیدہ ہو کر بولے مثلاً؟ عرض کیا کہ حضرت اوّل روس نے افغانستان پر حملہ نہیں کیا تھا، روسی فوجیں افغان حکومت کی ایما پر افغانستان میں داخل ہوئی تھیں اور یہ قیاس کر لینا غلط ہے کہ روس گرم پانیوں تک رسائی کے لئے بے تاب تھا کیونکہ 1989 میں روس کے پاس تیل کے کنوؤں کی تعداد تقریباً دو ہزار کے لگ بھگ تھی اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے روس سے الگ ہونے کہ باوجود آج بھی روس میں تیل کی پیداوار پوری دنیا کا 12 فیصد ہے۔ روس تیل کی اندرونِ ملک ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک برآمد بھی کرتا ہے۔مانتا ہوں کہ اتنی بڑی ریاست کے انتظامی معاملات کو قابو میں رکھنے کے ساتھ ساتھ روس کے انہدام سے پہلے روسی وزارتِ خارجہ سے بالخصوص اور حکومتی مسند پر براجمان لوگوں سے غلطیاں ہوئیں جس کا خمیازہ روس کو عالمی طاقت سے زوال پذیری اور انہدام کی صورت میں بھگتنا پڑا مگر اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ افغانستان کے بعد روس کا اگلا نشانہ پاکستان ہوتا۔
کہنے لگے، میاں اس وقت ضیا صاحب کا امریکی کیمپ میں داخل ہونا ہمارے لئے پھر بھی سود مند رہا۔
میں نے پوچھا محترم بتا دیجیے اْس سود مندی کے اشاریے کیا تھے؟
کہنے لگے افغانستان سے تربیت یافتہ لوگ جہاد کشمیر میں کام آ ئے اور بھارت کا مسئلہ کشمیر پر سفّاک رویّہ نرم پڑا۔
عرض کیا حضرت آپ نے اس کا منفی پہلو بھی دیکھا کبھی؟
سٹپٹا کر بولے کہ ہر بات مین مین میخ نکالنا تمہاری عادت ہے
میں نے کہا قبلہ یہ بتا دیجئے کہ اگر جہاد کشمیر واقعی سود مند تھا تو مسئلہ اپنے منطقی انجام کو کیوں نہیں پہنچا؟ اور ہاں یہ فاٹا میں جن لوگوں کے خلاف فوج آپریشن کر رہی ہے ان کا جہاد افغانستان اور کشمیر سے کیا تعلق ہے؟
ڈاکٹر صاحب کہنے لگے چھوڑیے میاں جو باتیں ایوب، یحییٰ ضیا اور مشرف جیسے مدبر لوگ سمجھتے تھے وہ یہ جاہل سیاستدان کیا سمجھیں گے؟
عرض کیا ڈاکٹر صاحب بات روس اور چین کے ساتھ دفاعی معاہدے کی ہو رہی تھی آپ ایوب، یحییٰ، ضیا اور مشرف کو کہاں سے لے آئے، چلیں بات چل نکلی ہے تو ذکر دشمناں بھی ہو جائے۔ حضرت فوجی ادوار میں جو دودھ اور شہد کی نہریں بہتی رہیں ان کے نام تو انگلیوں پر گنوا دیجئے!
خفا ہو کر بولے ’بادشاہ کیا کرے، اگر عوام ہی بدعنوان اور بے ایمان ہوں؟ خود تو کوئی سلجھنے کا نام نہیں لیتا اور وقت بے وقت حکومت کو کوستے رہتے ہیں۔
میں نے بات بدلتے ہوئے عرض کیا کہ ڈاکٹر صاحب آپ یہ بتائے کہ پاکستان میں موبائل فون کے کتنے صارفین ہونگے؟ ٹھٹھک کر بولے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق یہی کوئی دس کروڑ کے لگ بھگ ہوں گے۔
میں نے کہا فرض کر لیجیئے ان دس کروڑ سے صرف ایک کروڑایسے ہیں جن کے فون کا خرچ صرف سو روپے روزانہ ہو تو روز کا ٹیکس جو حکومت کے کھاتے میں پڑتا ہے کتنا ہو گا؟
زیرِ لب جمع تفریق کر کے بولے یومیہ پچیس کروڑ اور ماہانہ سات ارب پچاس کروڑ۔
میں نے کہا یہ ایک کروڑ موبائل صارفین کی جیبوں سے نکلنے والی رقم ہے جو بلاواسطہ حکومتی خزانے میں جاتی ہے۔ اسکے علاوا اگر پاکستان میں بجلی کے صارفین صرف دس کروڑ ہوں اور دس کروڑ صارفین سو روپے ماہانہ بل ادا کریں تو سترہ فیصد سیلز ٹیکس کے حساب سے ماہانہ ایک ارب ستر کروڑ روپے حکومت کے خزانے میں جاتے ہیں۔ پاکستانی سرکاری اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں 54 فیصد لوگ ایسے ہیں جن کی آمدنی ایک سو روپیہ یومیہ سے کم ہے مطلب یہ ہوا کہ چھیالیس فیصد لوگوں کی آمدنی ایک سو روپیہ یومیہ سے زیادہ ہے اور یقیناً یہ لوگ روزانہ ایک سو روپے گھریلو اخراجات پر خرچ بھی کرتے ہوں گے۔ اشیائے صرف پر سترہ فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوتا ہے 150 اگر پانچ کروڑ لوگ یومیہ اوسطاً ایک سو روپیہ خرچ کریں تو روزانہ پچاسی کروڑ روپے حکومت کے خزانے میں جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری اور نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں پر ٹیکس، سڑک پر گاڑی چلانے کا ٹیکس، پانی کے نل پر ٹیکس، گیس کے کنکشن پر ٹیکس، درآمدات اور برآمدات پر ٹیکس، کتاب اور دوا پر ٹیکس۔ عام لوگ پنسل سے لیکر گاڑی تک ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ فوج، بڑی کارپوریشنز، بڑا زمینداراور سرمایہ دار ٹیکس چوری کرتے ہیں اور یہی لوگ حکومتی مشینری پر قابض ہیں۔ تو حضرت افراد اور کیسے سدھریں گے؟
ڈاکٹر صاحب نے آہ بھر کر کہا، میاں ٹھیک کہتے ہو۔۔۔ میں اور تم سدھر بھی جائیں تو کچھ نہیں ہو گا جب تک نظام نہ بدلے۔۔۔ !

This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s