عام آدمی

عدنان خان
موجودہ سیاسی دور میں، جو کہ تقریباً 1977 سے شروع ہوتا ہے، ہمیں تواتر سے عام آدمی کا ذکر ملتا ہے۔ حکومتیں، اپوزیشنیں، انجمنیں اور ہر وہ شخص جو کہ بیان دینے، معاف کیجیے گا، بیان چھپوانے کی صلاحیت رکھتا ہے،عام آدمی کے غم میں ہلکان ہوا جا رہا ہے۔مگر حیرت انگیز طور پر، کوئی شخص نہیں جانتا کہ عام آدمی کون ہے۔ فرسودہ لغات کہتی ہیں کہ عام آدمی ہما شما میں سے ہوتا ہے۔ بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح، ہم بھی اپنی فطری سادگی کی وجہ سے اس تعریف کو درست سمجھتے رہے۔ مگر جب ماہانہ بیانات کی نوعیت کچھ اس طرح ہوگئی کہ’ تیل کی قیمت میں پانچ روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے مگر اس سے عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ‘ تو ہم کچھ شبہ میں پڑے کہ غالباً یہ عام آدمی کوئی اور ہے۔ مگر چونکہ بہت ثقہ قسم کے حضرات یہ بیانات دے رہے تھے، اور لغت بھی ان کی تائید کر رہی تھی، اس لیے ہم نے اس شبہ کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی۔ویسے اس بیان کے ٹھیک ڈیڑھ منٹ کے بعد سبزی، گوشت، بس میں سفر، پانی، بجلی اور گیس کے بھاو اور تانگہ کے کرایہ میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ بظاہر ان میں سے کچھ چیزوں کا تعلق تیل سے نہیں ہوتا مگر ان کی قیمت بڑھ جاتی ہے، مثلاً تانگہ کا کرایہ۔ مگر اہل نظر جانتے ہیں کہ تانگہ کا براہ راست مقابلہ تیل سے چلنے والی چیزوں، جیسا کہ ہوائی جہازوغیرہ سے ہوتا ہے اور اگر فوری طور پر اس کا کرایہ نا بڑھایا جائے تو گھوڑے کی نفسیات پر بڑے برے اور ناقابل علاج اثرات پڑنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ قیمتوں پر نظر رکھنے کے ذمہ دار سرکاری اداروں میں مذکورہ بالا اہل نظر حضرات کی کمی نہیں ہوتی ہے جو کہ جانتے ہیں کہ اگر ان دقیق نفسیاتی مسائل میں مداخلت کی گئی، یعنی قیمتوں کو ان کے اصل مقام پر رکھنے کی کوشش کی گئی توہمارا معاشرتی ڈھانچہ تباہ ہو سکتا ہے۔اس لیے وہ اس میں مداخلت سے بعض رہتے ہیں۔ چشم پوشی اور دوسروں کو معاف کر دینا ویسے بھی نیکوکاروں کا شیوہ ہوتا ہے۔ان کے کچھ حاسدین الزام لگاتے ہیں کہ ایسے اہلکار اپنے فرائض ادا نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ، مگر نیکوکاروں کے افسران ان کو نیکی کمانے سے بعض نہیں رکھتے۔ آخر انہوں نے بھی خدا کو منہ دکھانا ہے۔ویسے کچھ حاسد کہتے ہیں کے اس جانکاری کے نتیجہ میں ان کو ان کا حصہ مل جاتا ہے۔ خیر، جب تیل کے بعد جب گیس، فون اور پانی کی قیمتوں میںبھی اضافہ کا متواتراعلان اس خوشخبری کے ساتھ کیا جانے لگا کہ اس کا عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تو ہمیں تھوڑا سا اشتیاق ہوا کہ اس عام آدمی کے بارے میں کچھ تفصیلات بہم پہنچائی جائیں جس پر ان مہلک اضافوں کا اثر نہیں پڑتا کہ ہمارا اپنا بجٹ تو اس سے خاصہ غیر متوازن ہو جاتا ہے۔ تو جناب، ابتدائی طور پر عام آدمی کی تلاش ہم نے اپنے گردونواح سے ہی شروع کی اور اپنے ہمسائے کے دروازے پر پہنچے۔ مگر گھنٹی بجانے سے پہلے ہی ہمیں کچھ موہوم سا شبہ ہوا کہ یہ شخص عام آدمی نہیں ہوسکتا۔اس شبہ کی وجہ ہماری غیر معمولی قوت مشاہدہ اور ورطہءحیرت میں ڈالنے والی ذہانت کے علاوہ اور کیا ہو سکتی تھی کہ ہم ایک لمحے میں جان گئے تھے کہ یہ عام آدمی نہیں ہے اور اس پر قیمتوں میں اضافہ کا اثر پڑرہا ہے ۔ویسے ان عام طور پر پرسکون رہنے والے میاں بیوی کے درمیان ہونے والے لڑائی جھگڑے کی آوازیں کافی اونچی تھیں اور موضوع گفتگو ہمیشہ بڑھنے والی قیمتیں اور کبھی نا بڑھنے والی تنخواہ تھی۔ ہم نے گھنٹی بجانے کا ارادہ منسوخ کیا اور اگلے گھر کا رخ کرنے کی ٹھانی۔ مگر معلوم ہوتا تھا کہ وزیر خزانہ کی تقریر نے لوگوں میں تقاریری مقابلوں کا جوش اور ولولہ پیدا کر دیا تھا۔ تقریباً ہر گھر سے ’حکومت‘ اور ’اپوزیشن‘ کے درمیان ہونے والی تقاریر کی آواز آ رہی تھی اور حکومت مزید پیسوں کا مطالبہ کرتے ہوئے انکا ر کی صورت میں میکے جانے اور بچے سکول سے اٹھانے کی دھمکیاں دے رہی تھی۔ ظاہر ہے کہ ہما شما کا ہمارے محلے میں گذر نہیں تھا اور عام آدمی یہاں نہیں پایا جاتا۔اس جنسِ نایاب کی تلاش میں کسی اور طرف نظریں دوڑانے کی ضرورت تھی۔ یہ نئی سمت ہم نے جلد ہی دریافت کر لی۔ عام آدمی کو ملازمت پیشہ لوگوں میں ڈھونڈنا حماقت ہی تھی کہ ضروریاتِ زندگی اور تیل، بجلی اور ٹیکس میں اضافہ کی صورت میں ’برق گرتی ہے تو ان ہی انسانوں پر‘۔ ظاہر ہے کہ یہ عام آدمی ضرور کاروباری حضرات ہوں گے کہ کسی بھی چیز کی قیمت میں کہیں بھی اضافہ ہو تو یہ اپنے مال کی قیمت ازخود بڑھانے کی قدرت رکھتے ہیں۔ سو ہم نے عام آدمی کی تلاش جاری رکھتے ہوئے اپنے ارد گرد کے دکانداروں کا رخ کیا۔ مگر جناب، پہلی ہی دکان پر گئے تو دکاندار ’محو حےرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی‘ کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ معلوم ہوا کہ بجلی کابل بڑھنے سے اس کی دکان کا کرایہ بھی بڑھ گیا تھا۔ اس کے بعد اس کے مال کے سپلائر نے نرخ بڑھا دیے کہ تیل بھی مہنگا ہو گیا تھا اور آنے جانے کی لاگت بڑھ گئی تھی۔ مزید یہ کہ ذخیرہ اندوزی کے باعث اشیائے صرف کی منڈی میں بھی قیمت بڑھ گئی تھی۔ مجبوراً اس قسمت کے مارے نے نرخ بڑھا دیے اور فوری طور پر ۳۰۱ مختلف وفاقی، صوبائی، ضلعی اور تحصیلی محکموں کے افسران نے اس پر چھاپے مار کر اس حرکت کی پاداش میںاس کو سزائے موت کی نوید سنا دی۔ بہت منت سماجت پر وہ اس کی سزا میں نرمی کرتے ہوئے ’حبسِ دوام بعبور دریائے شور‘ کی سزا پر راضی ہو گئے۔ آخر کار اس نے حضرت قائدِاعظم کا واسطہ دیتے ہوئے ان کے کچھ سفارشی نوٹ (جو کہ مملکت خداداد میں بینک دولت پاکستان جاری کرتا ہے) پیش کیے تو خدا نے ان سخت گیر افسران کے دل میں رحم ڈالا اور ان کے دل کی دنیا ہی بدل ڈالی۔اس کایا پلٹ کے نتیجہ میں انہوں نے فوری طور پر تمام سزائیں منسوخ کرتے ہوئے اسے سرکار کی جاری کردہ قیمتوں میں من چاہا ردوبدل کرنے کا پروانہ جاری کر دیا۔اس کایا پلٹ کے عمل کو چند کند ذہن حضرات ’بھتا وصولی‘ کہنے پر مصر ہوتے ہیں۔ مگر اہل سلوک جانتے ہیں کہ ’آوازِ گدا کم نا کند رزقِ سگاں را‘۔ بہر حال، معلوم ہوا کہ مارکیٹ میں بیشتر تاجروں کے ساتھ یہی بیتی ہے سو یہ تاجر عام آدمی نہیں ہو سکتے تھے۔ ہمیں اپنی بے مثال ذہانت کے باوجود عام آدمی کا سراغ نہیں مل رہا تھا۔ آخر یہ جنس نایاب کہاں پائی جاتی تھی؟ آخر کار ہم نے تھک ہار کر ایک بڑے سرکاری افسر کے دفتر کا رخ کیا جو کہ بھلے وقتوں میں ہمارے ساتھ پڑھتا تھا اور اس تعلق سے اس سے کچھ ملنا جلنا باقی تھا۔ اس کے دفتر میں داخل ہوا تو موصوف کا یہ عالم تھا کہ پسینے جاری تھے، ’جی سر، بالکل سر، ہم تو پوری کوشش کرتے ہیں سر‘ قسم کی سرسراہٹ کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ ۵۱ منٹ کے بعد فون بند ہوا تو بچارہ اپنی کرسی پر ڈھیر ہو گیا اور بولا کہ اس تیل کی قیمت میں اضافے نے تو کمر ہی توڑ دی ہے۔ رزقِ حلال میں پورا نہیں پڑتاہے۔ بچے سرکاری سکولوں میں پڑھتے ہیں جہاں معیارِ تعلیم اور اکثر معلم بھی مفقود الخبر رہتے ہیں۔ پرائیویٹ سکول کی فیس ہم دے نہیں سکتے۔ رشوت لینے کا حوصلہ اور ہضم کرنے کی جرات نہیں ہے۔ اور ابھی اوپر سے فون آیا تھا کہ اوپر والوں کا حصہ نا پہنچا تو اس سے بھی ’انوکھی‘ پوسٹنگ کے لیے تیار رہنا۔ اس میز پر اتنا رش زیر عتاب ہونے کی وجہ سے ہی ہے۔ زندگی مصیبت بن کر رہ گئی ہے۔ بجلی، پانی، گیس یا تیل کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو دفتر میں افسر اور گھر میں نصف بہتر کے مزاج ہی نہیں ملتے۔ ہم نے اسے تسلی دلاسہ دے کر تھوڑا مطمئن کیا ۔ گو کہ یہ شخص ہمارے جتنا ذہین تو نا تھا، لیکن ہم عام آدمی کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک چکے تھے، اس لیے ہم نے اس سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے پوچھا کہ آخر یہ کون لوگ ہیں جن پر قیمتوں میں اضافہ کا اثر نہیں ہوتا؟ بولے، آو میرے ساتھ اور ہمیں ایک دفتر کی طرف لے گئے جس کے سامنے خلقت کا ایک اژدھام لگا ہوا تھا۔ مغلِ اعظم کی فلم بندی کے دوران اس ہجوم کی مناسب زاویوں سے تصویر بندی کی جاتی تو بیک وقت دربارِ عام او رناخلف شہزادہ سلیم کی فوجوں کے ساتھ گھمسان کے رن کے مناظر فلم بند کیے جا سکتے تھے۔ ہم سمجھ گئے کہ ےہ وزیرِاعظم کا نہیں تو کم از کم وزیرِ اعلٰی کا دفتر ہو گا جس کے سامنے سائلوں کا ہجوم ہے۔ ہم نے اپنے ہمراہی افسر سے کہا کہ خواہ مخواہ اس معمولی سے سوال کے جواب کے لیے ہمیں اتنے اہم آدمی کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ وزیر موصوف کو اتنا وقت کہاں میسر ہو گا کہ وہ اپنا اتنا سارا کام چھوڑ کر ہمارے اتنے معمولی سے مسئلے کو حل کریں۔ وہ افسر کچھ کنفیوز سا نظر آیا ’کون سے وزیر موصوف؟ میں تو تمہیں اپنے سابق ماتحت لوئر ڈویژن کلرک کے کمرے میں لے جا رہا ہوں جو کہ لوگوں سے فارم وصول کرنے پر معمور ہے اور جب تک فارم کے ساتھ’فضلِ ربی‘ نہ ہو، وہ کوئی اعتراض لگا کر واپس کر دیا جاتا ہے۔ اس شخص پر قیمتوں میں اضافہ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے۔‘ ہم نے حیران ہو کر پوچھا کہ اگریہ سب کچھ کرتا ہے اور عوام کے ساتھ اس کا یہ سلوک ہے، تو تمھارے ایمان دار ہونے کا ان لوگوں کو کیا فائدہ؟ تم نے اسے روکا کیوں نہیں؟ وہ ہمیں لے کر واپس اپنے کمرے کی طرف چلا۔ اندر جاکر اس نے اپنی فائلوں میں دفن میز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا کہ ’تمھارے خیال میں میری اتنی فضول جگہ پر پوسٹنگ کےوں کی گئی ہے؟ ایسی ہی حماقتوں کی وجہ سے۔ اب اگر میں نے مزید کوئی حماقت کی اور اس طرح کے کارِسرکار میں مداخلت کی تو اگلی پوسٹنگ گرمیوں میں تھر پارکر یا سردیوں میں سکردو میں کر دی جائے گی۔‘ ہم سمجھ گئے کہ افسرانِ بالا طبیب حضرات کے صدیوں سے آزمودہ نسخہ پر عمل کر رہے ہیں ےعنی ایسے سرکش لوگوں کو جو ایمانداری اور اصولوں کا راگ الاپتے ہیں، تبدیلیِ آب و ہوا کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔ مگر طبیب حضرات اپنے تمام تر علم کے باوجود لوگوں کو گرمیوں میں سرد اور سردیوں میں گرم مقام کی طرف بھیجتے تھے۔ اس خامی کو ہماری اعلٰی تربیت یافتہ بیوروکریسی نے محسوس کیا اور تجربہ سے ثابت کیا کہ سردیوں میں سرد ترین اور گرمیوں میں گرم ترین مقام کی پوسٹنگ سمجھداری میں اضافہ کرتی ہے اور متعلقہ افسر کو فوراً عقل آ جاتی ہے۔ خیر، ہم اس عقلِ نو پانے والے افسر سے رخصت ہوئے مگر ہمیں محسوس ہوا کہ مہنگائی میں اضافہ سے متاثر نہ ہونے کے باوجود یہ کلرک عام آدمی نہیں ہو سکتا تھا۔ عام آدمی ایسادربارِ عام ، جو کہ شان میں دربارِ اکبری سے ٹکرکھائے، منعقد کرنے کی طاقت تو نہیں رکھ سکتا نا۔ آخر یہ عام آدمی کون ہو سکتا ہے۔انہی سوچوں میں غلطاں ہم واپس گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ ایک چوک پار کرتے ہی ہمیں پوری طاقت سے بریک لگانی پڑی کیونکہ غیب سے اچانک ایک غل برپا کرتے ہوئے ٹریفک کانسٹیبل کاظہور عین ہماری گاڑی کے سامنے ہوا تھا۔ وہ مردِ غیب قریب آیا اور گویا ہوا ’جی گاڑی کے کاغذات اور لائسنس دکھایے۔‘ ہم نے پوچھا کیوں؟ ہم نے کیا غلطی کی ہے؟ وہ بولا ’آپ نے پیلی بتی پر چوک کراس کیا ہے۔‘ ’لیکن جب میں چوک میں داخل ہوا تھا تو بتی ہری تھی۔‘ ’تو کیا ہوا۔ نکلتے وقت تو پیلی ہو گئی تھی نا۔‘ ’لیکن قانون تو کہتا ہے کہ اس صورت میں میری کوئی غلطی نہیں۔‘ وہ یکایک غضبناک ہوا اور بولا ’آپ کیا خیال ہے ہمیں قانون نہیں آتا؟ کاغذات دکھائیے۔‘ اتنے میں بہت سے ہارنوں اور بریکوں کی آوازیں آئیں اور ہمارے پیچھے سے سرخ اشارے کی سلامی لیتی ہوئی ایک جہازی سائز کی گاڑی نمودار ہوئی اورزن سے آگے نکل گئی۔ ہم نے جل کر پوچھا ’آپ کو یہ گاڑی سرخ اشارہ توڑتی ہوئی نظر نہیں آئی تھی؟ آپ کو میرے ہری بتی پر کراس کرنے پر اعتراض ہے، مگر اس کے سرخ بتی پر نہیں؟‘ وہ مردِ غیب خندہ زن ہوا اور بولا ’تمہیں اس گاڑی پر لگی ہوئی ایم پی اے کی پلیٹ نظر نہیں آئی تھی؟ وہ کوئی عام آدمی نہیں تھا کہ میں اس کو روکتا۔ میرا دماغ ابھی خراب نہیں ہوا کہ اس کو روکنے کی جرات کرنے کا بھی سوچتا۔ ہم پر یکلخت آگہی کی تقریباً وہی کیفیت طاری ہو گئی جو غالباً ارشمیدس پر غسل کرتے وقت طاری ہوئی تھی اور وہ فوری طور پر بادشاہِ وقت کے مسئلے کا حل لے کر ترنت اس کے دربار میں حاضر ہوگیا تھا۔ لیکن اس کی آگہی غالباً مکمل نہیں تھی کہ وہ یہ بھول گیا تھا کہ غسل کے بعد اور بازاروں میں سے گذر کر دربار میں جانے سے پہلے کپڑے بھی پہننے کا مرحلہ بھی طے کرنا ہوتا ہے۔ معاف کیجیے، بات بہت دور تک نکل گئی۔ مگر بہر حال یہ ہم صاحبِ علم لوگوں کا فرض ہے کہ لوگوں کی معلومات میں اضافہ کرتے رہیں۔ تو بات ہو رہی تھی، آگہی کی۔تو ہمیں اس پولیس والے سیب کی وجہ سے یکلخت یہ آگہی حاصل ہوئی کہ عام آدمی کون ہے۔ عام آدمی وہ ہے جو کہ قانون کی پابندی کرنے پر مجبور ہو اور پھر بھی جرمانے کا شکار ہو جائے۔ جس کا بہت سا نقصان گھرمیں ہونے والی چوری کی وجہ سے ہو جائے، اور اس سے کہیں زیادہ پولیس والوں سے اپنی جان چھڑانے میں لگ جائے۔ عام آدمی ہم خود ہیں۔ وہ عام آدمی جس کا ذکر کسی بھی وقت کی حکومت کرتی ہے ’بیانی عام آدمی‘ تو کہلایا جا سکتا ہے، حقیقی عام آدمی نہیں۔ بیانی عام آدمی عام طور پر قانون سے ماورا ہوتا ہے۔اس کی پہلی قسم بیوروکریٹ درجہ اول کہلاتی ہے۔ اسے گھر اور نوکر چاکر مفت میں ملتے ہیں، اور اس کے بل کوئی اور (مثلاً وزارتِ خزانہ) ادا کرتے ہیں۔ اسے سستے داموں سب کچھ دستیاب ہوتا ہے۔ مثلاً وہ پندرہ لاکھ کی گاڑی سستے داموں مبلغ ۵۰،۰۰۰ ہزار میں خرید سکتا ہے اور مطمئین ہو جاتا ہے کہ ملک میں گاڑیاں بہت سستی مل رہی ہیں۔ اور بیچنے والا اس ’اچھے سودے‘ پر نازاں ہوتا ہے اور اس عظیم واقعہ کی یاد زندہ رکھنے کے لیے بیانی عام آدمی سے آٹوگراف لیتا ہے۔ عام طور پر یہ آٹوگراف مختلف ٹھیکوں کی فائلوں پر لیے جاتے ہیں۔ ’بیانی عام آدمی‘ کی یہ سب سے اعلٰی قسم ہوتی ہے۔ ’بیانی عام آدمی‘ کی دوسری قسم بھی خواص، اعمال اور استعمال میں قریب قریب پہلی قسم جیسی ہی ہوتی ہے۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ یہ قسم عارضی اور موسمی ہوتی ہے۔ موسمِ اقتدار میں اس کے اطوار اور ہوتے ہیں، اور اپوزیشن میں آنے کے بعد یا وزارت سے محرومی کے بعد عام طور پر یہ ملک سے باہر نکل جاتے ہیں اور ان کے اطوار بھی بدل جاتے ہیں۔ اقتدار کے موسم میں ان کو ہر چیز بہت سستی لگتی ہے اور عوام بہت خوش نظر آتے ہیں۔ اختلاف کے موسم میں یہ اس بات سے اختلاف کرتے ہیں اور عزم کرتے ہیں کہ دوبارہ اقتدار میں آتے ہی یہ عام آدمی کی حالت بدل دیں گے اور اس کی دولت اور ثروت میں بے تحاشہ اضافہ کر دیں گے۔ اور وہ ایسا کرتے بھی ہیں مثلاً تنخواہوں میں اضافہ کا وعدہ وہ ضرور پورا کرتے ہیں۔ لیکن اعتراض کرنے والے ایسے اچھے کاموں پر بھی نکتہ چینی کرتے ہیں اور فضول اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اضافہ صرف کابینہ یا ممبرانِ اسمبلی کی تنخواہ میں کیا گیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ وہ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ ایک بڑا کام عموماً کئی مراحل میں کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں عوامی نمائندوں کی تنخواہ میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ مزید رقم کا بندوبست ہونے پر یہ رقم اعلٰی افسران کی تنخواہ اور سہولیات پر خرچ کی جاتی ہے۔ تیسرے مرحلے میں درمیانے درجے کے ملازمین کی، چوتھے میں چھوٹے اور پانچویں میں میں پینشنرز کی باری آتی ہے۔ ہمارے یہ ’بیانی عام آدمی‘ پہلے اور دوسرے درجے کا کام تو کر لیتے ہیں، لیکن ایک غیرت مند قوم کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے وہ اپنے آپ میں کوئی تیسرے درجے کا کام کرنے کو حوصلہ نہیں پاتے، اور بات وزراءاور اعلٰی افسران کی تنخواہوں میں اضافہ کے درجے پر ہی رک جاتی ہے۔ تیسرے، چوتھے اور پانچویں درجہ کے متاثرین، معاف کیجیے گا ، ملازمین، ان کے اس قربانی کے جذبہ کی اتنی ہی قدر کرتے ہیں جتنا کہ قربانی کے دنبے کو قصاب کے جذبہ کی کرنی چاہیے۔ بات پھر بہت دور تک نکل گئی۔ بہر حال، ایک حقیقی عام آدمی کی طرح ہم اس کالم میں آپ کے ہر مسئلہ کا حل اور گلی محلے کا نکتہ نظر پیش کرتے رہیں گے۔ ضروری نہیں کہ وہ حل اور نکتہ نظر درست ہو، مگر بہر حال، یہ ایک عام آدمی کا نکتہ نظر ہو گا، ’دانشوروں‘ یا ’افسروں‘ کا نہیں۔ کہ ایک عام آدمی ہر بیماری کا علاج کسی بھی ماہر ڈاکٹرسے بہترجانتا ہے (بشرطیکہ یہ بیماری کسی اور کو ہو)۔ اگر عدیم الفرصتی کی وجہ سے وہ خودعلاج نہ کر سکے تو کم از کم ایک طبیب ِحاذق یا پیرِ کامل کا علم رکھتا ہے جو کسی بھی بیماری یا مسئلے کو چٹکی بجاتے ہی دور کر سکتا ہے۔ اسی طرح سیاسیات کے پیچیدہ مسائل اور شاطرانہ چالوں کا بھی اسے بھرپور علم ہوتا ہے، اور ان چالوں کا شکار ہونے والے اس کے بتائے ہوئے مجرب توڑ کے ذریعہ بچ بھی سکتے ہیں۔ اگر اسے ملک کا سربراہ بنا دیا جائے تو وہ آدھے گھنٹے کے اندر ملک اور عوام کے تمام مسائل حل کر سکتا ہے اور اقوامِ متحدہ کا سیکریٹری جنرل بننے کی صورت میں کشمیر، فلسطین اور قبرص کے مسائل ایک ہفتے میں حل ہونے کی توقع کی جانی چاہیے۔ عام آدمی یہ سارے مسئلے حل کر سکتا ہے، مگر وہ صرف ایک مسئلہ حل نہیں کر سکتا: اپنی محدود تنخواہ میں اپنا گھر کیسے چلائے اور اپنے بل کیسے چکائے؟ تو جناب، یہ کہانی اسی عام آدمی کی ہے جو آپ کو ان صفحات میں نظر آتی رہے گی۔
https://aamaadmipartypakistan.wordpress.com/become-member/

This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s