پاکستان میں بھی بن رہی ہے عام آدمی پارٹی

 

بھارت میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور پاکستان کے عوام کی نظریں بھی اس پر لگی ہوئی ہیں. یہ کہنا بھی ٹھیک ہوگا کہ ہندوستانی سیاست اور انتخابات کے اثرات پاکستان میں دیکھے جا رہے ہیں.

نئی دہلی کے اسمبلی انتخابات میں ایک طاقتور پارٹی بن کر ابھرنے والی عام آدمی پارٹی سے متاثر ہو کر پاکستان میں اسی نام سے ایک سیاسی پارٹی سامنے آئی ہے جسے عام آدمی پارٹی – پاکستان ‘کا نام دیا گیا ہے.

عام آدمی پارٹی پاکستان کو 23 مارچ کو باقاعدگی سے شروع ہونا تھا لیکن ارشد سلهري کے مطابق کچھ اور لوگ جو عام آدمی پارٹی کے نام سے پارٹی بنانا چاہتے ہیں وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں اس لئے پارٹی کی رسمی اعلان کچھ دن بعد کی جائے گی.

ارشد سلهري سولہ سال تک صحافت سے وابستہ رہے اور اس کے بعد انہوں نے عام آدمی پارٹی پاکستان کے نام سے پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا.

عوام نے کیا استقبال

انہوں نے یہ فیصلہ کیوں کیا اس بارے میں وہ کہتے ہیں، “ہم یوتھ فورم پاکستان کے نام سے 1996 سے کام کر رہے تھے، ہم سیاسی پارٹی کی تیاری بھی اسی نام سے کر رہے تھے لیکن جب بھارت میں عوام نے عام آدمی پارٹی کو بڑے پیمانے پر سراہا تو ہمیں لگا کہ پاکستان کے عوام بھی اسی طرح اٹھ سکتی ہے. کیونکہ دونوں ممالک کے مسائل اور دکھ درد ایک جیسے ہیں. تو ہم نے بھی فیصلہ کیا کہ ہمیں عوام کے پاس جانا چاہئے “

عام آدمی پارٹی پاکستان بھارت کی عام آدمی پارٹی کی طرح انتخابی نشان جھاڑو حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہے جبکہ وائپر یا ویکیوم – کلینر بھی پارٹی کا نشان ہو سکتا ہے.

ارشد سلهري کا کہنا ہے کہ اروند کیجریوال نے جس طرح عوام کو امید دلائی ہے، خاص طور پر نئی دہلی کے وزیر اعلی کے طور پر، اس دوران انہوں نے حیرت انگیز کام کئے جسے بھارت کی پوری عوام نے انہیں سراہا.

پاکستان کے عوام بھی یہ سب دیکھ رہی تھی. انہوں نے بہت کم وقت میں جو وعدے کئے تھے اسے ادا کرنا شروع کیا اور عوامی طریقے سے وزیر اعلی ہاؤس کے دروازے عام آدمی کے لئے کھول دئے.

سب سے خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے عام آدمی کی بات کی اور بھارت کی بڑی سیاسی جماعتوں کانگریس اور بی جے پی کو چوٹ لگائی اور ان کے سامنے لوگوں کا ہجوم لے کر کھڑے ہو گئے.

سلهري کے لئے یہ بہت بڑا پہلو تھا اروند کیجریوال سے متاثر ہونے کا.

سیاست کا فرق

پاکستان اور بھارت میں سیاست کے بارے میں ارشد سلهري کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کی سیاست میں فرق ہے.

وہ کہتے ہیں،” سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ بھارت کی آبادی بہت زیادہ ہے. بھارت کے مقابلے میں پاکستان ایک بہت چھوٹا ملک ہے. یہاں اعلی طبقے (اےليٹ کلاس) بھارت کے اعلی طبقے سے بہت زیادہ طاقتور ہے. بھارت کے شہری پاکستان کے مقابلے میں زیادہ سیاسی سمجھ – بوجھ رکھتے ہیں اور مذہبی رجحان بھی کم ہے.”

پاکستان میں مذہبی سیاسی جماعتیں بھی بہت ہیں اور آبادی کم ہونے کی وجہ سے ان کا اثر بہت زیادہ ہے. یہی ایک بنیادی فرق بڑا مسئلہ ہے.

ارشد سلهري کا کہنا ہے کہ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا پاکستان کے عوام بھی بھارت کے عوام کی طرح عام آدمی پارٹی کا ساتھ دے گی؟

وہ بتاتے ہیں،” پاکستان میں عوام کے دکھ درد بہت ہو گئے ہیں. آج پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی عام آدمی کے لئے کچھ نہیں کر رہی. عام آدمی کے دکھ کے بارے میں عمران خان بات کر رہے ہیں نہ نواز شریف اور نہ ہی بلاول بھٹو زرداری. اس معاملے میں عوام نئی سیاسی طاقت کی طرف سے بھی دیکھ رہے ہیں کہ جو ان کے ساتھ چلے.”

عام آدمی پارٹی پاکستان کے فیس بک پیج کے “لاكس” صرف 100 کے قریب ہیں مگر ارشد سلهري کو امید ہے عوام ان کا ساتھ دے گی. وہ کہتے ہیں کہ جب وہ باہر تبلیغ کے لئے نکلے تو عوام نے ان کا استقبال کیا ہے اور پاکستان میں اگلے انتخابات تک وہ عوام کو ذوڑےنے میں کامیاب ہو جائیں گے

ارشد سلهري کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام بھی بھارت کے انتخابات پر نظریں جماے ہوئے ہیں. اس بار انتخاب بہت تاریخی ہیں جس میں ان کے حساب سے کانگریس اعلی طبقے کی پارٹی ہے اور بی جے پی مذہب کا نام استعمال کرتی ہے.

وہ کہتے ہیں کہ ایسے وقت میں بھارتی عوام کے پاس بہترین انتخاب عام آدمی پارٹی ہی ہے.سلهري کہتے ہیں کہ ان کی خواہش ہے کہ بھارت میں عام آدمی پارٹی کی حکومت بنے اور اروند کیجریوال وزیر اعظم.

 

About aapakistan

We are not saying that every single politician is corrupt and greedy. There are many good intentioned people in politics today who want to work honestly for the people of Pakistan. But the current system of polity does not allow honest politicians to function. We are also not claiming that every single person who joins our party will be hundred percent honest. We are saying that it is the system that has become very corrupt and needs to be changed immediately. Our aim in entering politics is not to come to power; we have entered politics to change the current corrupt and self-serving system of politics forever. So that no matter who comes to power in the future, the system is strong enough to withstand corruption at any level of governance.
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s