ناقابل تردید سچائی

 ارشد سلہری
پاکستان کی 67سالہ تاریخ میں عام آدمی کو بنیادی انسانی حقوق حاصل ہوئے ہیں اور نہ ہی عام آدمی کو بنیادی انسانی ضروریات دستیاب ہو سکیں ہیں ،سیاسی سماجی حوالے سے بھی دیکھا جائے تو سیاسی پارٹیوں میں بھی عام آدمی کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ہے بلکہ اس کے برعکس عام آدمی کا سیاسی، سماجی اور مذہبی استحصال کیا جاتا ہے ،  موجودہ عہد میں کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں ہے جس میں عام آدمی سیاسی جماعت کی فیصلہ ساز کمیٹی کا ممبر ہو یا پارٹی کے بالا اداروں سنٹرل ورکنگ کمیٹی ، فیڈرل کونسل یا پارٹی کے دیگر اداروں میں عام آدمی کو نمائندگی دی گئی ہو عمومی طور پر سیاسی پارٹیوں کی اعلی قیادت اور ان کے چمچے یہ کہتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں کہ عام لوگوں میں شعور نہیں ہے اور عام آدمی جاہل ہے طاہر القادری ، عمران خان، نواز شریف ، آصف زرداری ہو یا کوئی اور پیشہ وار سیاسی راہنما پارٹی کارکنوں سے ہمیشہ یہی کہتا ہے کہ قربانی دی جائے، پارٹی کیلئے جان و مال قربان کیا جائے، اس امر کے مظاہرے بھی دیکھے ہیں کہ کارکنوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دیے ہیں ہر پارٹی کے پاس شہیدوں کی لسٹ موجود ہے۔ حال ہی میں طاہر القادری نے لانگ مارچ اور انقلاب کے نا م پر عام لوگوں کو ورغلایا اور  ان کی جمع پونجی اپنی سیاسی تشہیر پہ ضائع کر دی ۔طاہر القادری کے پاس ایسے لوگ ہیں جو جانیں  قربان کر سکتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے پاس بھی ایسے بے شمار افراد ہیں جو اپنا مال اور اپنی جان الطاف بھائی پہ لٹا دیتے ہیں ،یہی ملتے جلتے معاملات باقی سیاسی جماعتوں کے ہیں ۔اہم نکتہ یہ ہے کہ عام لوگوں کو حاصل کیا ہوا  ،مذکورہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے عام شہریوں کے لئے حاصلات کیا ہیں ؟ناقابل تردید سچائی  یہی ہے کہ عام آدمی مسائل کا شکار ہوتا رہا ہے۔ غربت ، بے روزگاری اور مہنگائی کے طوفانوں نے عام آدمی کے منہ سے نوالہ چھین لیا ہے پاکستان کے مرکزی بینک کی رپورٹ ہے کہ 20کروڑ کی آبادی میں 15کروڑ سے زائد لوگ پچھلے 5سالوں کے اندر خط غربت کے نیچے چلے  گے ہیں اور رفتار تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے اور دوسری جانب دولت اور وسائل چند لوگوں کے ہاتھوں میں  سمٹ رہے ہیں پاکستان میں آج ایسا وقت آچکا ہے کہ تمام عام آدمی آج تعلیم صحت ، روزگار اور دیگر بنیادی انسانی ضروریات زندگی کو ترس رہا ہے، وسائل پر قابض طبقہ بڑی ہوشیاری اور مکاری کے ساتھ ٹی وی اور علماء سو کے ذریعے عام آدمی کو دھوکہ دینے میں مصروف ہے کہ یہ سب اللہ کی مرضی ہے، تمہارے گناہوں کی سزا ہے، دوسری جانب تمام تر مسائل ، کرپشن بدعنوانیوں اور بد اعمالیوں کا ذمہ دار بھی عام لوگوں کو قرار دے دیا جاتا ہے کہ ہم بطور قوم کرپٹ اور بد عنوان ہیں عام آدمی کے ساتھ صرف ایک طرف سے کھلواڑ نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ سیاسی ، سماجی ، اخلاقی ، مذہبی، قانونی اور آئینی حوالے سے بھی عام آدمی کاا ستحصال جاری ہے اور ہر قسم کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے ۔پیشہ وار سیاسی راہنما انتخابی مہم میں بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں، وقت ختم ہو تے  ہی یکسر بدل جاتے ہیں، عمران خان ، نواز شریف، عہد کی زندہ مثالیں موجود ہیں۔ بہت سارے اور بھی عوامل ہیں جس پر ہزاروں کتابیں تحریر ہو سکتیں ہیں۔ تشریح بہت ہو چکی ہے۔ آج عمل کا وقت ہے ۔ عام آدمی کو سوچنے کی ضرورت ہے، یہی عوامل ہیں کہ عام آدمی پارٹی پاکستان کی بنیادی رکھی گئی ہے تا کہ عام آدمی بھی اپنا سیاسی کردار ادا کرے اور اپنے حقوق کی جنگ خود لڑنے کے قابل ہوسکے۔ خود کو سیاسی خونخوار بھیڑیوں سے بچا سکے ،خود  کو  سیاسی سماجی ، معاشی ، مذہبی اور اخلاقی استحصال سے بچا سکے۔ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے قابل ہو سکے، اپنی قسمت خود بنائے، اپنی عزت و مال کا تحفظ خود کر سکے ۔ عام آدمی پارٹی پاکستان عام لوگوں کی اسی مزاحمت کا نام ہے۔ عام آدمی پارٹی پاکستان ایک جنگ ہے غربت ، بے روزگاری ، کرپشن ، مہنگائی اور استحصال کے خلاف جو تب تک جاری رہے گی جب تک عام آدمی کو اس کے کماحقہ حقوق مل نہیں جاتے ہیں۔

About aapakistan

We are not saying that every single politician is corrupt and greedy. There are many good intentioned people in politics today who want to work honestly for the people of Pakistan. But the current system of polity does not allow honest politicians to function. We are also not claiming that every single person who joins our party will be hundred percent honest. We are saying that it is the system that has become very corrupt and needs to be changed immediately. Our aim in entering politics is not to come to power; we have entered politics to change the current corrupt and self-serving system of politics forever. So that no matter who comes to power in the future, the system is strong enough to withstand corruption at any level of governance.
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s