عام آدمی پارٹی

 

پروفیسر محمد فاروق قریشی
 
aam-admi-parti

سر پر گاندھی ٹوپی، آنکھوں پر چشمہ ، ڈھیلی ڈھالی قمیص، گھِسی ہوئی پتلون اور پیروںمیں معمولی سینڈل پہنے 45سالہ عام سا آدمی جس کی طرف عام حالات میں کوئی توجہ نہ دے۔ اروِند کیجریوال ’’عام آدمی پارٹی‘‘ کا بانی اور مقبول راہنما جس نے پورے بھارت کی روایتی سیاست میں زلزلہ برپا کردیا ہے۔ اناّ ہزارے کا قریبی ساتھی اور کرپشن کے خلاف چلائی گئی مہم کا زبردست حامی اور مبلغ، دہلی کی ریاستی اسمبلی کے 4دسمبر کو ہونے والے کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقابلے میں ایک انقلابی راہنما کے طور اُبھر کر سامنے آیا ہے۔ چونکہ بھارتی عوام

کانگریس اور بی جے پی کے روایتی حکومتی ہتھکنڈوں اور کرپشن کے مہیب سکینڈلز کی وجہ سے ان دونوں پارٹیوں کی استحصال سیاست اور عوام دشمنی سے تنگ آئے ہوئے ہیں اس لیے وہ نئی ’’عام آدمی پارٹی‘‘ کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔ کیجریوال نے اپنی جارحانہ انتخابی مہم سے دہلی کے سیاسی ماحول کو تبدیل کردیا ہے۔ اس نے حکومتی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے، کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے اور انصاف کو عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانے کو نعرہ لگایا ہے۔ اس کے سیاسی نظریات اور معاشی فلسفے نے عام لوگوں کو سحر زدہ کردیا

ہے اور اپنی محرومیوں سے بھری، مہنگائی کا شکار اور گھٹن زدہ زندگیوں میں روشنی کی ایک کِرن دیکھ رہے ہیں۔ ہنو مان روڈ دہلی پر پارٹی کے مرکزی دفتر میں کارکنوں کا ہجوم رہتا ہے۔ لاکھوں افراد پارٹی کے ممبر بن چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ ہزاروں رضاکار اندرون و بیرون ملک اپنے کاروبار، ملازمتیں چھوڑ کر انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لیے دہلی آ رہے ہیں۔ جو دہلی کے ہر انتخابی حلقے میں گھر گھر جا کر ووٹروں سے رابطہ کررہے ہیں اور انھیں بتا رہے ہیں کہ یہ بھارت میں تبدیلی لانے کا ایک تاریخی موقع ہے۔ مختلف اخبارات اور اداروں کے سروے

یہ بتا رہے ہیں ’’عام آدمی پارٹی‘‘ کی مقبولیت کا گراف دن بدن بلند ہوتا جا رہا ہے اور کانگریس اور بی جے پی پریشان دکھائی دے رہی ہیں۔ خصوصاً کانگریس جو دہلی میں مسلسل پندرہ سال سے برسر اقتدار ہے اسے بھی زمین اپنے پیروں کے نیچے کھسکتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ اسی لیے دہلی کی وزیر اعلیٰ شیلا ڈکشٹ (شیلا آنٹی) جنھوں نے وزارتِ اعلیٰ کی ہیٹ ٹرک مکمل کر رکھی ہے اب 4دسمبر کے انتخابات کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں اور اپنی پارٹی کے مستقبل کو خطرے میں دیکھ رہی ہیں۔
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ’’عام آدمی پارٹی‘‘ عام لوگوں کے لیے ہے اور یہ عام آدمی کے مسائل کا حل پیش کر رہی ہے۔ پارٹی کے عام ارکان اور رضا کاروں نے چند ماہ کے اند گیارہ کروڑ روپے کے عطیات جمع کر لیے ہیں جن کا شفاف ریکارڈ رکھا جارہا ہے جو پارٹی کی ویب سائٹ پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ کیجریوال کو امید ہے کہ وہ دہلی اسمبلی کی70 نشستوں میں سے 47 نشستیں جیت جائیں گے جو کہ کانگریس ارکان کی موجودہ تعداد سے بھی زیادہ ہیں۔ پارٹی کے زیادہ تر امیدوار نوجوان ہیں جو پہلی مرتبہ سیاسی میدان میں اترے ہیں۔ مثال کے طور پر جانک پوری سے

ایک مٹھائی والا، چھتریور سے ایک پہلوان، گوکل پور سے ایک مجسمہ ساز، شاکر بستی سے ایک ماہر تعمیرات۔ ان سب کے نام عام لوگوں نے تجویز کیے ہیں۔ امیدواروں کے چنائو کے لیے مندرجہ ذیل تین شرائط رکھی گئی ہیں۔
ہر امیدوار کو دیانتدار ہونا چاہیے۔ اس کو مضبوط کردار کا مالک ہونا چاہیے اور اس کے خلاف کوئی مجرمانہ مقدمات درج نہ ہوئے ہوں نیز اس کے غیر ازدواجی تعلقات کا ثبوت نہ ہو۔ ہر امیدوار کو اپنے معاملات شفاف اور احتساب کے لیے تیار رکھنے ہوں گے۔ امیدوار ایک تحریری حلف نامے پر بھی دستخظ کریں گے جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
1۔میں سرخ بتی والی کوئی گاڑی استعمال نہیں کروں گا۔
2۔میں بلا ضرورت سیکیورٹی اسٹاف نہیں لوں گا۔
3۔میں رہنے کے لیے بڑا بنگلہ قبول نہیں کروں گا۔
4۔میں سواراج یعنی اختیارات کے نچلی سطح پر منتقلی کے اصول کا حامی ہوں۔ اس کے لیے میں قانون بنوانے کی کوشش کروں گا۔
5۔میں جان لوک پال بل اور انتخابی اصلاحات کا حامی ہوں۔
6۔حکومتی کو لوگوں کی رضا مندی کے بغیر زمین حاصل کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ میں ایسا قانون بنوائوں گا۔
7۔میں نے ’’عام آدمی پارٹی‘‘ کے فلسفے اور مقاصد کو پڑھ اور سمجھ لیا اور ان کے ساتھ پوری طرح متفق ہوں۔
کیجریوال کا سیاسی نصب العین ہے کہ اختیارات کو سیاستدانوں اور افسروں کے بجائے عوام کی طرف منتقل کیا جائے گا۔ وہ یقین رکھتا ہے کہ اگر نچلی سطح پر عوام کو طاقتور بنایا جائے، تو اس سے ناقابل تصور بڑی تبدیلیاں پیدا ہوں گی۔ وہ اپنی پارٹی کے منشور یعنی سیاسی نصب العین اور معاشی فلسفے کو پانچ اہم نکات میں پیش کرتا ہے۔
٭خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی: ہم حساس دفاعی اور معاشی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات قائم کرناچاہتے ہیں۔ دفاعی سامان کی خریداری میں سیاسی مداخلت اور کرپشن کو روکنے کا بندوبست کیا جائے گا۔
٭معاشی فلسفہ: ہم عام آدمی ہیں اور اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ہمیں مناسب حل دائیں یا بائیں جس نظریہ حیات سے ملے گا، اسے استعمال میں لائیں گے۔
٭ پرائیویٹ کاروبار: اگر ہم دولت اور روزگار پیدا کرنا چاہتے ہیں، تو ہم ملک میں کاروبار کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ ہم قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کو دور کر کے طریقہ کار کو آسان بنائیں گے اور دیانتدارانہ ماحول پیدا کریں گے۔تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرکاری ادارے کام کریں گے اور باقی شعبہ جات میں پرائیویٹ سیکٹر کو آزادانہ کام کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ ہم خاندانی سرمایہ داری کے خلاف ہیں۔
٭بیرونی سرمایہ کاری: ہم بیرونی سرمایہ کاری کی نظریاتی مخالفت یا موافقت پر یقین نہیں رکھتے۔ ہمیں ہر شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کی خوبیوں اور خامیوں کو دیکھنا ہو گا۔ ہم حکومت کے دستیاب حقائق اور اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھیں گے، مباحثے کی دعوت دیں گے اور ملک کے مفاد میں فیصلے کریں گے۔
٭ منڈی کی معیشت اور امدادی قیمتیں: منڈیوں کا مثالی طریقے سے کام کرنا خوش آیند ہوتا ہے۔ لیکن عملی طور پر چند مشترکہ مفادات رکھنے والے گروپ منڈیوں پر منفی اثرات ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور طبقات کے مفادات کا تحفظ دیانتداری سے کرے۔
کیجریوال انا ہزارے کی قیادت میں کرپشن مخالف تحریک میں شامل تھا اور 2011ء میں حکومت کے ساتھ طے ہونے والے جن لوک پال بل کے مسودے کو دہلی کا ریاستی قانون بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ نومبر 2012ء میں کیجریوال کے گروپ نے انا ہزارے سے راستہ الگ کر لیا اور باقاعدہ سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ بدقسمتی سے اناہزارے نے سیاست میں آنے سے انکار کر دیا ورنہ یہ پارٹی بھی مضبوط اور طاقتور ہوتی۔وہ کہتا ہے کہ 2014ء میں لوک سبھا کے ہونے والے انتخابات کرپشن اور دیانتداری کے درمیان ہوں گے۔ وہ دہلی کے انتخابات کو صرف پہلا مقابلہ قرار دیتا ہے۔ اس میں کامیابی کے بعد وہ ملکی سطح پر انتخابات میں حصہ لیں گے۔
وہ سیاست میں کرپشن کی گندگی کے خاتمے کو اپنا اوّلین ہدف قرار دیتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ ان کا مقابلہ کانگریس یا بی جے پی سے نہیں بلکہ کرپشن سے ہے۔ وہ اپنی یقینی کامیابی کو محسوس کر رہا ہے۔ جب ایک دکاندار یا پھول فروش اس کو بتاتا ہے کہ اس کے گاہکوں کی غالب اکثریت عام آدمی پارٹی کو ووٹ ڈالنے جارہی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ لوگ جانتے ہیں کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں کرپٹ پارٹیاں ہیں۔ اب ’’عام آدمی پارٹی‘‘ کی شکل میں ان کے پاس ایک آپشن ہے کہ وہ دیانتدار امیدواروں کو ووٹ دیں۔ اس لیے 4دسمبر کو کچھ غیرمعمولی واقعہ پیش آنے والا ہے۔ اکتوبر 2013ء میں ہونے والے پول سروے میں اس کی پارٹی کو کانگریس پر سبقت حاصل ہوئی ہے اور اس میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔
بھارت میں ’’عام آدمی پارٹی‘‘ کے بہت سے مخالفین بھی موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ کیجریوال دونوں بڑی پارٹیوں کا مشترکہ دشمن ہے۔ شروع میں اس کے مخالفین اس پر ہنستے اور مذاق اڑاتے تھے۔ جیسا کہ بھارتی میگزین ’’انڈیا ٹو ڈے‘‘ میں ایس پراسنا راجن نے کیجریوال کو ایک مزاحیہ جادوگر قرار دیا ہے جو جھاڑو (پارٹی نشان) کے زور پر طلسماتی انقلاب برپا کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ چونکہ متوسط طبقہ اور نچلا طبقہ کسی معجزے کے منتظر رہتے ہیں، اس لیے جھاڑو والا جادوگر ان کے تصورسے عین مطابقت رکھتا ہے۔ لیکن حقیقت میں وہ ملک کو پیچھے

کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن ایسے تبصروں کے باوجود کیجریوال کو اپنی توقع سے بہت پہلے ایک مقبول سیاسی لیڈر کا مقام حاصل ہو گیا ہے اور اسے دہلی کے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس مرتبہ کانگریس اور بی جے پی کا رشوت کے ذریعے غریبوں کے ووٹ خریدنے کا حربہ بھی نہیں چلے گا کیونکہ غریب لوگ اس کو کہہ رہے ہیں کہ وہ پیسے تو دونوں پارٹیوں سے لیں گے، لیکن ٹھپہ ’’عام آدمی پارٹی‘‘ پر لگائیں گے۔ ’’عام آدمی پارٹی‘‘ کے رضا کاروں کے گھر گھر رابطوں اور کیجریوال کی اسٹریٹ کارنر مینٹنگز سے

فضا بالکل تبدیل ہو چکی ہے۔ پارٹی پالیسی کے مطابق دہلی کے ستر انتخابی حلقوں میں ہر ایک کا الگ منشور تیار کیا جا رہا ہے۔ وہاں کے رہائشی ووٹرز کے مسائل اور مطالبات نوٹ کیے جا رہے ہیں تاکہ ہر حلقے کا منشور وہاں کے عوام کی مخصوص ضروریات اور مسائل کے مطابق ترتیب دیا جائے اور حکومت بنانے کی صورت میں اس پر عمل کیا جا سکے۔ یہ رابطہ عوام مہم ہر حلقے میں جاری ہے اور اس کے بہت حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
کیجریوال کے اعتماد میں اضافے کا باعث پارٹی عہدیدار، کارکن اور رضاکار بن رہے ہیں جو اپنے کاروبار اور ملازمتیں چھوڑ کر پارٹی کی خدمت کر رہے ہیں اور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ اس کے میڈیا منیجر 32سالہ بیبھاو کمار ایسے ہی لوگوں میں شامل ہیں۔ اس نے این ڈی ٹی وی چینل کے ساتھ اپنی ملازمت کو چھوڑ دیا، اسی طرح شاکر بستی میں انتخابی مہم کے منیجر 27سالہ ابھیشک بنتھیا نے کمپیوٹر کمپنی کی ملازمت چھوڑ دی جب مالک نے دہلی کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لیے چھٹی دینے سے انکار کیا۔ 48سالہ اشوک یادیو پارٹی کے دفتر میں کام کرتا ہے۔

وہ فخر سے بتاتا ہے کہ وہ پارٹی کی کیپ پہننے والا سب سے پہلا کارکن تھا۔ کیجریوال کہتا ہے کہ لوگ پارٹی میں اس لیے نہیں آ رہے کہ وہ اس کو پسند کرتے ہیں بلکہ وہ اپنے وطن سے کرپشن کی صفائی کا موقع ملنے پر آ رہے ہیں۔ لوگ اس پارٹی میں اس لیے بھی شامل ہو رہے ہیں کیونکہ یہ دونوں بڑی پارٹیوں کی دولت اور غنڈہ گردی کی سیاست کی مخالفت کر رہی ہے۔ کیجریوال سے جب یہ سوال کیا گیا کہ اگر آپ کی پارٹی ہار گئی، تو آپ کیا کریں گے، تو اس نے جواب دیا کہ اگر وہ حکومت نہ بنا سکے ، تو وہ اپوزیشن میں بیٹھیں گے کیونکہ کانگریس یا بی جے پی کی مخلوط حکومت کا اتحادی بننے کا مطلب ہو گا اپنے ووٹر سے دھوکا اور وہ یہ کبھی نہیں کریں گے۔
دنیا بھر سے اور پورے بھارت سے جو ہزاروں رضا کار ’’عام آدمی پارٹی‘‘ کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لیے دہلی آ رہے ہیں ان کو رہائش مہیا کرنا پارٹی کے لیے ایک بڑا مسئلہ تھا۔ چنانچہ کیجریوال نے اپنے کارکنوں سے اپیل کی کہ ان رضا کاروں کو اپنے گھروں میں ٹھہرائیں۔ مشرقی دہلی میں شاہدرہ کے قریب کینا گائوں میں 28سالہ امرناتھ رائے اپنے چھوٹے سے گھر میں روزانہ نصف درجن رضاکاروں کو قیام کی سہولت فراہم کرتا ہے اور خود بھی صبح سے شام تک پارٹی رابطہ مہم کے لیے گھر گھر جاتا ہے۔ رائے کہتا ہے ’’میں مختلف پارٹیوں کے امیدواروں کو ووٹ دیتا

رہا ہوں، لیکن میں جانتا ہوں کہ سیاسی جماعتیں عوام کو دھوکا دیتی ہیں۔ اب اس نظام کو تبدیل کرنے کا ایک موقع ہاتھ آیا ہے۔ تبدیلی کا یہی وقت ہے ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔‘‘ 58سالہ گربکش سنگھ فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم کے عقب میں رہتا ہے۔ اس نے 30رضاکاروں کے قیام کے لیے بیسمنٹ کو تیار کر دیا ہے۔ وہ پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک ہے اور ملک کے نظام میں تبدیلی کے لیے اس پارٹی کی حمایت کرتا ہے۔ کیونکہ پرانی سیاسی پارٹیوں کوئی تبدیلی لانے یا کرپشن کو ختم کرنے کی اہل نہیں۔ رضاکاروں میں 26سالہ چیمنتھ پوتھولا منیاپولس میں بینک کی ملازمت چھوڑ کر اپنے ملک آیا ہے تاکہ ملکی نظام میں تبدیلی لانے میں مدد کر سکے۔ 77سالہ پروفیسر جے ناتھ مسرا سب کچھ لندن میں چھوڑ کر دہلی آیا ہے اور اپنے ساتھ برطانیہ میں رہنے والے پارٹی رضاکاروں کی طرف سے 30لاکھ روپے کا عطیہ بھی لایا۔ وہ سمجھتا ہے کہ 66سال بعد ملک کے سیاسی نظام کو تبدیل کرنے کا یہ نادر موقع اب آیا ہے۔
’’عام آدمی پارٹی‘‘ کے حق میںبہت سے عوامل کام کر رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا نے پارٹی اور اس کے پروگرام کو کافی کوریج دی ہے جس سے اب ہر گلی، محلے، دکان اور ڈرائنگ روم میں پارٹی کا ذکر ہو رہا ہے۔ پارٹی کے رضاکار سوشل میڈیا پر بھی کافی فعال ہیں۔ مجموعی طور پر پارٹی کی انتخابی مہم میں جدت طرازی اور عوامیت پائی جاتی ہے اور اس وقت یہ کانگریس اور بی جے پی دونوں کو پیچھے چھوڑ چکی ہے۔ پارٹی کی جو چیز نوجوانوں کو متاثر کر رہی ہے وہ اس کا روپے پیسے اور طاقت کے استعمال سے اجتناب ہے جبکہ دوسری پارٹیاں کھلے عام اس میں ملوث

پائی جاتی ہیں۔ بھارت کے عوام بجلی اور پانی کے بھاری بلوں، مہنگائی اور نااہل حکومت سے تنگ آئے ہوئے ہیں۔ ’’عام آدمی پارٹی‘‘ کی قیادت دیانت داری کی شہرت رکھتی ہے، حقائق کا ادراک رکھتی ہے اور متوسط شہری طبقے میں خصوصاً ہردلعزیز ہے۔ ان خصوصیات کے ساتھ اس پارٹی میں کچھ کمزوریاں بھی ہیں۔ مثلاً اس کو سیاست اور حکومت کا کوئی تجربہ نہیں۔ اس پارٹی کے ووٹرز کا تعلق کسی مخصوص ذات، برادری، علاقائی یا نسلی گروہ سے نہیں۔ اس لیے یہ مستحکم ووٹ بینک سے محروم ہے۔ مزید برآں اس کے پاس مضبوط اور بااثر امیدواروں کی کمی ہے۔

About aapakistan

We are not saying that every single politician is corrupt and greedy. There are many good intentioned people in politics today who want to work honestly for the people of Pakistan. But the current system of polity does not allow honest politicians to function. We are also not claiming that every single person who joins our party will be hundred percent honest. We are saying that it is the system that has become very corrupt and needs to be changed immediately. Our aim in entering politics is not to come to power; we have entered politics to change the current corrupt and self-serving system of politics forever. So that no matter who comes to power in the future, the system is strong enough to withstand corruption at any level of governance.
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s