ہمیں بھی’’ عام آدمی پارٹی‘‘ کی ضرورت ہے!

بھارت کے غرباء و مساکین نے تو کم از کم صوبہ دلی کی سطح پر اپنے لئے ایک علیحدہ پارٹی بنا ڈالی ہے اور اس نے حالیہ الیکشن میں70 میں سے 28 نشستیں جیت بھی لی ہیں اور الیکشن کے دوران عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل پر بھی سرگرمی سے عمل درآمد شروع کر دیا ہے اس پارٹی کا نام ہے ’’عام آدمی پارٹی‘‘ جس کا مخفف ہے ’’آپ‘‘ اب دیکھتے ہیں اپنے ہاں اس قسم کی سیاسی پارٹی کا وجود کب عمل میں آتا ہے؟ ’’عام آدمی پارٹی‘‘کے پیچھے درحقیقت انا ہزارے کی سوچ کام کر رہی ہے کہ جس نے کچھ عرصے پہلے کرپشن کے خلاف ایک مہم شروع کرکے بھارت کی سیاست میں ایک تہلکہ مچایا ہوا ہے اس نئی پارٹی کی الیکشن میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ یہ عام آدمی کی نہ صرف مسائل کی بات کرتی ہے بلکہ اپنے الیکشن کے منشور کو عملی جامہ پہنانے کیلئے عملی اقدامات بھی کرتی ہے عام آدمی کے مسائل کیا ہے ؟

یہی نا تعلیم ‘ صحت ‘ انصاف ‘ مہنگائی ‘ بے روزگاری ‘ خواتین کے حقوق ‘ بجلی ‘ پانی ‘ سیوریج کا نظام ‘ ٹرانسپورٹ وغیرہ وغیرہ ’’ عام آدمی پارٹی‘‘ کی بنیاد26 نومبر 2012ء کو رکھی گئی تھی اور شروع شروع میں اس پارٹی کے قائد اروندکجری وال نے اپنی تمام تر توجہ صوبہ دلی کے 70 انتخابی حلقوں تک ہی محدود رکھی اس پارٹی نے دلی میں برسر اقتدار آتے ہی عوام سے کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد شروع کر دیا بھارت کے سرمایہ دار طبقہ کو ’’ عام آدمی پارٹی‘‘ ایک آنکھ نہیں بھاتی اور اس نے اسے کچلنے کی بھرپور کوشش شروع کر دی ہے لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ‘ تاریخ عالم گواہ ہے کہ جب بھی دنیا میں کہیں بھی عام آدمی نے اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھائی اور اپنے معاشی استحصال کے خلاف علم بغاوت بلند کیا وہاں سرمایہ داروں نے مختلف حربوں سے اسے دبانے یا مٹانے کی بھرپور کوشش کی صرف معدودے چند انقلابی لیڈر ہی اپنے مشن میں کامیاب ہوئے کہ جن کے نام انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں ورنہ اکثریت کا تو سرمایہ داروں نے پیدا ہوتے ہی گلا گھونٹ دیا شی گویرا کے ساتھ امریکی فوجیوں نے کیا سلوک کیا ؟ لوممبا کا کیا حشر نشر کیا گیا؟ یہ تو خمینی‘ کاسٹرو‘ ماوزے تنگ ‘ ہوچی منہ ‘ سوئیکارنو‘ جمال ناصر اور لینن کی خوش قسمتی تھی کہ وہ اندرونی اور بیرونی سرمایہ داروں اور ان کی حمایتی حکومتوں کی سازشوں کا شکار نہ ہوئے اور زندہ بچ گئے اور ان کو کچھ نہ کچھ موقعہ مل گیا کہ وہ اپنے اپنے ملک کے عوام کی معاشی حالت کو بہتر بنا سکیں یہ حقیقت ہے کہ جس کسی نے بھی عوام کے مسائل کی بات کی ‘ معاشرے میں پھیلی ہوئی عدم مساوات کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور دولت کی منصفانہ تقسیم کا ذکر کیا ہے ۔

سرمایہ داروں اور ان کی حلیف حکومتوں نے ریاستی جبر کے بل بوتے پر مٹا ڈالا ہمارا الیکٹرانک میڈیا صرف بھارت کی فحش اور عریانیت سے بھرپور فلموں ‘ گانوں اور ہندو کاہی پرچار نہ کرے بلکہ ’’ عام آدمی پارٹی‘‘ جیسی سیاسی پارٹی اور اس کے رہنماؤں کے معاشی پروگراموں کو بھی اجاگر کرے ! کتنے افسوس کی بات ہے کہ اس ملک کا سب سے بڑا تجارتی ٹیلی ویژن چینل بھارتی کلچر ‘ ڈراموں اور فلموں کا اس طریقے سے پرچار کرتا ہے کہ جیسے وہ پاکستان کا ٹیلی ویژن چینل نہ ہو بلکہ بھارت کا ہو ‘ اور اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کی دیکھا دیکھی ہمارے دوسرے کئی ٹیلی ویژن چینلز نے اس کی نقل شروع کر دی ہے سچی بات یہ ہے کہ اس ملک کے عوام کو ’’ عام آدمی پارٹی‘‘ جیسی پارٹی کی اس ملک میں قیام کی ضرورت بالکل محسوس نہ ہوتی اگر میدان میں پہلے ہی سے موجود ملک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کی کارکردگی مایوس کن نہ ہوتی عوام نے پی پی پی کو چار مرتبہ آزمایا اور (ن)لیگ کی اقتدار میں یہ تیسری باری ہے ان دونوں پارٹیوں نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا ان کے رہنماؤں کے لچھن بالکل ویسے کے ویسے ہی ہیں ان میں رتی بھر تبدیلی بھی واقع نہیںہوئی گفتار کے ان غازیوں نے عوام کو از حد مایوس کیا ہے ‘ جہاں تک پاکستان تحریک انصاف کا تعلق ہے۔

عام آدمی نے عمران خان سے کافی امیدیں لگا رکھی تھیں بلکہ اب بھی کئی لوگوں کا یہ خیال ہے کہ انہیں اگر صرف خیبر پختونخوا میں ایک معذور ‘ لولی لنگڑی دوسری سیاسی جماعتوں کے تعاون سے چلنے والی حکومت کے بجائے مرکز میں اکثریتی حکومت بنانے کیلئے عوام نے الیکشن میں مینڈیٹ دیا ہوتا تو شاید وہ عوام کی توقعات پر پورا اتر سکتے ‘ جہاں تک مذہبی سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے کیا یہ ان کے لیڈروں کی ناکامی نہیں کہ وہ عوام کے دلوں میں اپنے حسن اخلاق اور دیانتداری سے اب تک کوئی واضح مقام پیدا نہیں کر سکے۔پس تحریر: کراچی میں آپریشن کلین اپ کو شروع ہوئے ایک عرصہ بیت چکا ہے لیکن سندھ کا دارالحکومت سدھر نہیں رہا گزشتہ جمعرات کو کراچی میں سینئر پولیس افسرچوہدری اسلم کا قتل اس حقیقت کی غمازی کرتاہے کہ کراچی کی رگ وپے میں دہشت گرد سرایت کر چکے ہیں اس آپریشن کلین اپ کو کسی بھی سیاسی مصلحت کی وجہ سے آدھے رستے میں چھوڑنا خودکشی کے مترادف ہو گا بھلے کئی سال لگ جائیں کراچی کو بھاری اسلحہ اور دہشت گردوں سے صاف کرنے کیلئے آپریشن کلین اپ کو جاری رہنا چاہئے

About aapakistan

We are not saying that every single politician is corrupt and greedy. There are many good intentioned people in politics today who want to work honestly for the people of Pakistan. But the current system of polity does not allow honest politicians to function. We are also not claiming that every single person who joins our party will be hundred percent honest. We are saying that it is the system that has become very corrupt and needs to be changed immediately. Our aim in entering politics is not to come to power; we have entered politics to change the current corrupt and self-serving system of politics forever. So that no matter who comes to power in the future, the system is strong enough to withstand corruption at any level of governance.
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s