عام آدمی

 
زاہد محمود

بھارت میں عام آدمی پارٹی کی کامیابی اور اسکی حکومت کے عام آدمی کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر فوری عملدرآمد سے جہاں بھارت میں عام آدمی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے وہیں پاکستان میں بسنے والے وہ عام آدمی جس تک عام آدمی پارٹی کی کامیابی کی خبر پہنچ چکی ہے انتہائی خوش ہے اور اس میں عام آدمی کی اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کی امید بھی جاگ چکی ہے وہ امید جو عمران خان کے تیس اکتوبر کے جلسے کے بعد جاگی تھی مگر بدقسمتی سے عمران خان اس رستے سے ہٹ گئے اور اپنے لئے ایک ایسے رستے کا انتخاب کیا جو میرے خیال میں انھیں نہیں کرنا چاہِیے تھا اگر عمران خان اس رستے سے نہ ہٹتے تو عوامی سونامی اس حد تک آجاتا جسے کوئی نہیں روک سکتا تھا اس راستے کے انتخاب کے بعد عمران اپنی پارٹی کے اندر جاری جنگ کو ٹھنڈا کرنے میں جت گیا کیونکہ وہ لوگ جو کہ عام آدمی تھے وہ کسی صورت بھی ان تمام لوگوں کو پارٹی میں قبول کرنے کو تیا ر نہیں تھے لہذا پارٹی میں ایک کشمکش شروع ہوگئی جسکی وجہ سے عمران کے تبدیلی کے اس نعرے کو جھٹکا لگا جو کہ وہ کافی عرصہ لگاتا رہا اور جسکی شدید خواہش بلاشبہ آج بھی اسکے دل میں ہوگی مگر وہ اپنے ڈگر سے ہٹا ہے جسکی وجہ سے عام آدمی اس پر اعتماد کرنے میں جھجک محسوس کر رہا ہے وہ نوجوان جو عمران کے ایک نعرے پر لبیک کہتے ہوئے اپنا سب کچھ داوّ پر لگانے کو تیار تھے وہ بھی اب پوری طرح مستعد نہیں ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ انکے لیڈر نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا ہے اور کارکن ہمیشہ اپنے قائد سے حوصلہ اور ہمت لیتا ہے اسی وجہ سے تحریک انصاف کے جلسوں میں جس طریقے سے پہلے عام آدمی دلچسپی لیتا تھا اب اس نے دلچسپی لینا چھوڑ دی ہے یا یوں کہیں کہ کم کر دی ہے تو بے جا نہ ہوگا باوجود اسکے کہ عمران عام آدمی کی بھلائی کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے لیکن عام آدمی عمران پر اعتماد کرنے سے ہچکچا رہا ہے وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی بری طرز حکومت کے باوجود بھی وہ سب نہیں کر رہا جسکی اس سے توقع کی جا رہی ہے یا جو اسے کرنا چاہئے اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف نے یا عمران نے جس خاص طبقے کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے وہی اس ملک کی تقدیر کو بدلے گا مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عام آدمی کی متحرک شمولیت کے بغیر یہ خواب پورا نہیں ہوسکے گا عمران خان نے اپنی جماعت میں انتخابات کروا کر ایک ایسا اقدام کیا ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے خیبر پختونخوا میں عمران کے جیتنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے وہاں ایک درزی جماعتی انتخابات میں ضلع کے صدر بنا اور اسطرح کے کئی لوگ جو عام آدمی تھے وہ پارٹی کے اہم عہدوں پر فائز ہوئے مگر پنجاب میں ایسا کہیں دیکھنے میں نہیں آیا اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے میں یہ نہیں کہتا کہ عمران کو وہ تمام لوگ جو تیس اکتوبر کے بعد اس کی جماعت میں شامل ہوئے ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہئے لیکن پارٹی کے اہم عہدے اسے عام آدمی اور نوجوانوں کو ہی دینا ہونگے کیونکہ پرانے چہرے عمران کو سیاست اور ڈپلومیسی تو سکھا سکتے ہیں مگر عام آدمی کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکتے وہ تمام لوگ جو پارٹی میں تیس اکتوبر کے بعد آئے ہیں انہیں چاہئے کہ اگر وہ اپنا اس پارٹی کا اور اس ملک کا بھلا چاہتے ہیں تو رضا کارانہ طور پر پارٹی کے اہم عہدے عام آدمی اور نوجوانوں کے حوالے کر دیں بصورت دیگر یہ جماعت بھی دوسری جماعتوں کی طرح ہی تصور کی جائے گی۔ ایک اور طرف میں عمران خان کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ خیبر پختونخواہ کی حکومت عمران کے مستقبل کا فیصلہ کریگی پہلے تو عمران کو مبارکباد کہ پٹواری اور تھانہ کلچر میں خیبر پختونخوا میں واضح تبدیلی نظر آنا شروع ہوگئی ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ لہذا اسے فوری طور پر چند اقدامات کرنا ہونگے جن میں سر فہرست نوجوانوں کی تکنیکی و فنی تربیت کے ساتھ روزگار کی فراہمی اور بے گھروں خصوصا سالہا سال سے کرائے کے مکانوں میں رہنے والوں کے لئے کوئی ایسی سکیم جس کے ذریعے وہ دس سے پندرہ سال کرائے کی مد میں اس مکان کی قیمت ادا کر کے اس جگہ کے مالک بن سکیں یہ دو چیزیں میں نہیں سمجھتا کہ اتنی مشکل ہیں اگر خان صاحب یہ دو چیزیں آنے والے سال میں کر گئے تو پورے ملک میں عمران کے سونامی کا زور منہ چڑھ کر بولے گا اور کوئی بھی اس سونامی کے آگے ٹھہر نہیں سکے گا کیونکہ عام آدمی کو اپنی علیحدہ جماعت بنانے کی ضرورت نہیں ہوگی اور وہ جوق در جوق عمران کی جماعت کو مضبوط کریں گے جو کہ حقیقی عوامی نمائندگی رکھنے والی جماعت ہوگی اور عوامی سونامی ہوگی لیکن اگر عمران نے اس دفعہ بھی اس گاڑی کو مس کر دیا اور اننگ کو اپنی مرضی کے مطابق آگے بڑھانے کی کوشش کی تو شاید اسکی سیاسی اننگ یہیں پر ختم ہو جائے بحیثیت ایک عام آدمی میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ عام آدمی یہاں پر بھی بیدار ہو چکا ہے اور اس بات کا عمران سے بہتر کسی کو پتہ نہیں ہوگا عمران خان کو اپنے مشیر بھی تبدیل کرنا ہونگے کیونکہ جس صاف نیت کا وہ مالک ہے یا جتنی دلیرانہ صلاحیتوں کا وہ مالک ہے لوگ اس سے فیصلے بھی اسی طرح کے توقع کر رہے ہیں اور اگر پھر بھی ہوش کے ناخن نہ لیئے تو بہت جلد وہ ہوگا جسکا کوئی وہم و گمان بھی نہیں کرسکتا کیونکہ اب اس قوم کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے اور اندھے کے ہاتھ میں ڈنڈا یا پتھر کتنا نقصان دہ ہوسکتا ہے اسکا اندازہ اسی کو ہوگا جسکے ساتھ یہ سب پیش آچکا ہو۔

About aapakistan

We are not saying that every single politician is corrupt and greedy. There are many good intentioned people in politics today who want to work honestly for the people of Pakistan. But the current system of polity does not allow honest politicians to function. We are also not claiming that every single person who joins our party will be hundred percent honest. We are saying that it is the system that has become very corrupt and needs to be changed immediately. Our aim in entering politics is not to come to power; we have entered politics to change the current corrupt and self-serving system of politics forever. So that no matter who comes to power in the future, the system is strong enough to withstand corruption at any level of governance.
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s