عام آدمی کا مقدر بدلے گا

  1. اگر یہ کہاجائے کہ پاکستان میں عام آدی انتخابات میں حصہ لے کر قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کا ممبر ہوسکتا ہے اور مزید یہ کہاجائے کہ بہت سے عام آدمی اسمبلی میں پہنچ کر اپنے میں سے کسی کاایک کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بنوا سکتے ہیں تو ایسا کہنے والے کی دماغی حالت میں لوگ شک کریں گے اور اسے مینٹل ہاسپٹل بھجوانے کی فکر کریںگے پاکستان کے مروجہ سیاسی نظام میں ایسی ہنر کاری موجود ہے کہ صرف ایک مخصوص طبقے کے افراد ہی الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں پاکستان کے سیاسی نظام میں عام آدمی صرف ووٹ دے سکتا ہے کسی پارٹی کے جلسے کی رونق میں اضافہ کرسکتا ہے اور پارٹی کے لیڈر کے حق میں نعرے لگا سکتا ہے اور اس پارٹی اور اس کے حمایت اور مخالفت میں بحث مباحثہ کرسکتا ہے۔ پاکستان میں 1970ءکے انتخابات میں پہلی بار تو یہ ہوا جب ذوالفقار علی بھٹو نے چند افراد کو جنہیں عام آدمی ہی کہاجاسکتا ہے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ دئیے لیکن ان کی تعداد اتنی تھی کہ وہ انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے اورکسی طور پر پارٹی کی پالیسیوں پر اثر انداز نہیں ہوسکتے تھے پارٹی میں پالیسی سازی کی پوزیشن جن لوگوں کی دسترس میں رہی وہ مخدوم طالب المولیٰ، غلام مصطفی جتوئی، غلام مصطفی کھر، نواب احمد علی تالپور، نواب اسلم رئیسانی وغیرہ جاگیردار یا امیر طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ پہلی بار کافی بڑی تعدادمیں عام آدمی کو امیدوار بنانے کا تجربہ مہاجر قومی موومنٹ( ایم کیو ایم) اور اب متحدہ قومی موومنٹ نے کیا اور غریب اور نچلے متوسط طبقے کے لوگوں کو ٹکٹ دئیے گئے اور ووٹروں سے جن میں اکثریت عام لوگوں کی ہے انہیں لاکھوں کی لیڈ سے کامیاب کرایا ان کا خیال تھا کہ ان ہی جیسے لوگ اسمبلیوں اور حکومت میں جا کر ان کی تقدیر بدلنے، جاگیرداروں اور استحصالی طبقے سے نجات کا ذریعہ بنیں گے لیکن ان غریب اور نچلے متوسط طبقے کے افراد نے جو کچھ کیا وہ سب زندہ تاریخ کا حصہ ہے۔ ایک مدت بعد تحریک انصاف کے عمران خان نے عام آدمی کا نعرہ لگایا پہلا ناکام تجربہ اگرچہ سامنے تھا اس کے باوجود اس ملک کے عام آدمی نے دنوں میں عمران خان کو بڑا قومی لیڈر بنا دیا یہ مرتبہ و مقام وہ پندرہ سال کی طویل جدوجہد میں حاصل نہیں کرسکے تھے ایک عام تاثر تھا کہ 2013ءکے انتخابات میں تحریک انصاف کی جاگیر دارسرمایہ دار کی بجائے گلی محلوں کے ساجھوں ماجھوں کو ٹکٹ دے گی اور اس طرح میں انتخابات کے ذریعہ انقلاب کا سیاسی معجزہ رونما ہوگا مگر اس عام آدمی کو بھی اس وقت شدید جھٹکا لگا جب عمران خان نے کسی عام آدمی کو ٹکٹ دینے کی بجائے اس پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ” مجھے الیکٹیبل لوگ چاہئیں“ یعنی وہ افراد جو الیکشن جیت سکیں اور جو الیکشن جیت سکتے ہیں وہ پارٹی پالیسی کے پابند نہیں ہوتے بلکہ پارٹی پالیسی کے خدوخال وہ اپنے مفادات کی بنیاد پر طے کرتے ہیں انتخابات ہوئے اور انتخابات کے بعد اب جو جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی، مخدوم جاوید ہاشمی، عبدالعلیم خان اور دیگر ”انقلابی“ صف اول میں نظر آتے ہیں عام آدمی تو ان کی بچارو اور لینڈ کرورز وں کو میلا ہونے کے خوف میں ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا ان سے ہاتھ ملانا تو بڑے نصیب کی بات ہے(ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کا جہاں تک تعلق ہے ان میں تو عام آدمی کا کام صرف نعرے لگانا ہی ہے۔
    اب حال ہی میں نئی دہلی میں عام آدمی پارٹی نے جنم لیا جس نے زیادہ تر نوجوان اور عام آدمیوں کو امیدوار بنایا نئی دہلی کے عام آدمیوں نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور عام آدمی پارٹی کا انتخابی نشان جھاڑو ہے اور انتخابات میں اس نے واقعی جھاڑو پھیردی ہے ۔ پندرہ سال تک نئی دہلی میں راج کرنے والی کانگرس شکست سے دوچار ہوگئی اس پارٹی کی بنیاد 2012ءمیں بھارت کے شہر غازی آباد میں رکھی گئی جس کے سربراہ اروند کجروال نے کرپشن کے خلاف توانا آواز بلند کی اور آج وہ نئی دہلی کے وزیراعلیٰ ہیں یہ تو ہوگیا نئی دہلی کے عام آدمی نے ووٹ دیکر اپنا کردارادا کردیا اب دیکھنا یہ ہے کہ اقتدار ملنے کے بعد عام آدمی پارٹی کیا واقعی عام آدمی کا مقدر بدلنے میں کردارادا کرے گی یا اس کے حلف یافتہ کارکن بھتہ خوری کے ذریعہ نئی دہلی کے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردیں گے اور عام آدمی کیلئے معاملہ ” درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری ہے “ والا بن کر رہ جائے گا؟

About aapakistan

We are not saying that every single politician is corrupt and greedy. There are many good intentioned people in politics today who want to work honestly for the people of Pakistan. But the current system of polity does not allow honest politicians to function. We are also not claiming that every single person who joins our party will be hundred percent honest. We are saying that it is the system that has become very corrupt and needs to be changed immediately. Our aim in entering politics is not to come to power; we have entered politics to change the current corrupt and self-serving system of politics forever. So that no matter who comes to power in the future, the system is strong enough to withstand corruption at any level of governance.
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s