عام آدمی پارٹی۔۔۔ بدلے ہوئے بھارتی سماج کا چہرہ!

 
بشریٰ اعجاز

سانحۂ گجرات کو لگ بھگ دس برس ہونے کو آئے۔۔۔ مگر سیکولر ہندوستان کے کسی تھانے کسی کچہری میں آج تک گجرات کے بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کا مقدمہ درج نہ ہوا، نہ ہی کسی انصاف کی اعلیٰ عدالت نے از خود نوٹس کے ذریعے، بے گناہ و مظلوم مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے بی جے پی کے ہیرو نریندرا مودی سے اس خون کا حساب مانگنے کی جرأت کی۔۔۔ جس پر انتہا پسند ہندوؤں کے علاوہ، ہر اس شہری نے ندامت محسوس کی، جو طبقاتی، مذہبی، گروہی یا سماجی قید سے ذہنی طورپر آزاد تھا، اور جو مسلمانوں کو اعلیٰ درجے کا شہری نہ سہی، انسان ضرور سمجھتا تھا، ارون دھتی رائے اور ان جیسے کئی ہندو ادیبوں اور شاعروں نے اپنی تحریروں میں اس المیے کو رجسٹر کرایا اور اس پر آواز بھی اٹھائی، مگر وہ آواز چونکہ انسانیت کی آواز تھی۔۔۔ اس لیے ہندوتوا کے فلک شگاف نعرے میں دب کر رہ گئی، کہ یہ نعرہ آر ایس ایس کا تھا، جس کا ایجنڈا ہی، غیر ہندوؤں سے، ہندوستان کو پاک کرنے کا ہے۔۔۔ جو ببانگ دہل کہتی ہے، مسلمانو یا تو ہندو دھرم کی شرن میں آجاؤ، نہیں تو بحر ہند میں ڈوب مرو۔۔۔ ہندوستان میں تمہاری کوئی جگہ نہیں ہے!

بابری مسجد کا انہدام۔۔۔ سانحۂ گجرات، سمجھوتہ ترین دہلی پارلیمنٹ پر حملہ اور سانحہ ممبئی سمیت، آج تک ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہوتا رہا ہے۔۔۔ اور ہو رہا ہے، اس کے پیچھے یہی انتہا پسند سوچ کار فرما رہی ہے کہ ان سب واقعات کا واسطہ یا بالواسطہ دباؤ، مسلمان اقلیت پر ہی پڑتا ہے، جسے سماجی طور پر ہندوستان کے درجہ اول کے شہریوں نے روز اول سے دیوار سے لگا رکھا ہے، نریندرا مودی اور دیگر انتہا پسند ہندو سیاستدان، اسی پریشر کو موقع بہ موقع بڑھا کر یا قدرے کم کر کے، اپنے سیاسی قد کو بڑھاتے رہتے ہیں۔

حالیہ انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی نے جہاں کانگریس کی راتوں کی نیند اڑا دی ہے، وہاں ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت کا مستقبل بھی مزید بے یقینی کے حوالے کر دیا ہے۔۔۔ ایسے میں عام آدمی پارٹی کی دہلی میں کامیابی اور بھارت کے صدر مقام میں اس کی حکومت، اک ایسی تبدیلی ہے، جو ہندوستانی سماج کے بدلتے ہوئے رویوں اور مثبت سوچ کی جانب واضح اشارہ ہے۔۔۔ جس نے بھارت پر وراثتی سیاست کرنے والے نہرو خاندان کی بالادستی کو بھی چیلنج کر دیا ہے۔۔۔ اور بی جے پی کو بھی واضح بوکھلاہٹ کاشکار کر دیا ہے۔۔۔! جس کا ثبوت، بی جے پی نے عام آدمی پارٹی پر اپنے بیانات کی چاندماری سے ہی نہیں دیابلکہ دو روز قبل اتر پردیش میں غازی آباد میں واقع عام آدمی پارٹی کے دفتر پر، بی جے پی کا دھاوا یہ ثابت کرتا ہے کہ انہیں اس نوزائیدہ سیاسی جماعت سے کس قدر خطرات لاحق ہو چکے ہیں، اور مستقبل قریب میں ہونے والے انتخابات میں وہ اس جماعت کو اپنے لیے کتنا بڑا خطرہ سمجھ رہی ہے!

عام آدمی پارٹی، جس کے نوجوان لیڈر اروِند کجریوال، جن کا تعلق ہریانہ سے ہے، اس وقت یوں بھارت کی نگاہیں اس جماعت پر لگی ہوئی ہیں، بھارتی کنونشنل سیاست کے سمندر میں، پہلا بھاری پتھر پھینک کر ہلچل مچانے والی یہ سیاسی جماعت، اپنے خدوخال میں، روایتی سیاست سے بہت مختلف دکھائی دیتی ہے۔۔۔ دلت، ہریجن اور دیگر پسماندہ و ٹھکراتے ہوئے طبقات کی یہ جماعت، جو آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بھارتی سیاسی منظر نامے پر چھا گئی، کی کامیابی سے پرانی سیاسی جماعتوں کو مصیبت پڑ گئی ہے۔۔۔ من موہن سنگھ جی کا، بی جے پی کے مذموم مقاصد سے قوم کو ہوشیار کرنا اور بی جے پی کے مرکزی لیڈر نریندرا مودی کے AAP کی لیڈر شپ پر کھلی تنقید، سوشل میڈیا پر AAP کے مقابلے میں تحرک ہونا اور AAP کی عوام دوست پالیسیوں کے خلاف محاذ آرائی سے نریندرا مودی کی بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کا اچھی طرح اندازہ ہوتا ہے۔۔۔ وہ میدان، جس میں نریندرا مودی کل تک بوڑھے شیر کی طرح دھاڑ رہا تھا! آج اس میدان میں اروِند کجریوال کھڑا اسے دعوتِ مبارزت دے رہا ہے!

کشمیر میں بھارتی فوج کی موجودگی پر، ریفرنڈم کا بیان، جو AAP کے سینئر لیڈر پرشانت بھوشن نے کمال جرأت سے دیا ہے۔۔۔ اس پر بی جے پی کا طوفان اپنی جگہ، مگر اس بیان نے بھارتی سیاست کے بدلتے ہوئے رجحانات کے ساتھ ساتھ، بھارتی سماج میں اس تیسری سوچ کی موجودگی کا بھی واضح اعلان کر دیا ہے، جو اس سے قبل وہاں اس قدر نمایاں انداز میں دکھائی نہ دیتی تھی۔۔۔ پرشانت بھوشن کا کشمیر میں بھارتی فوج کی مستقل موجودگی اور اس پر ریفرنڈم کا بیان AAP کی حقیقت پسندی اور بھارت کے اٹوٹ انگ کے بارے میں اس انسان دوست سوچ کی غمازی کرتا ہے جو اس سے قبل، بھارتی سیاست میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے AAP اپنے انقلابی اقدامات اور غیر روایتی سیاسی فکر کی بدولت، دلی والوں کی منظور نظر بن گئی ہے!

دہلی والوں کو بجلی اور پانی مفت مہیا کرنے سے، انہی عوام دوست پالیسیوں پر عمل کا آغاز کرنے والی AAP نے دو روز پہلے، دہلی والوں کو یہ ہیلپ لائن نمبر دیا ہے۔۔۔ 011-27357169 جو صبح آٹھ سے رات دس بجے تک کھلا رہے گا۔۔۔ اس نمبر کے ذریعے دہلی والے سماج میں زہر کی طرح سرایت کر جانے والی کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف اپنی شکایت درج کرائیں گے، اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ ان کی مدد کرے گا، رشوت خوروں کے خلاف AAP کا یہ انقلابی قدم، دہلی والوں کا اس نوزائیدہ سیاسی جماعت پر مزید اعتماد قائم کرے گا۔۔۔ جس نے نعروں اور وعدوں کے بجائے، انتہا پسندی اور مسلم کشی کے بجائے ہندوتوا کے فروغ اور مسلمانوں کو بحر ہند میں ڈبونے کے بجائے، بھارت کے اٹوٹ انگ میں، فوج کے مستقل کردار پر سوال اٹھا دیا ہے ، واضح اور ٹھوس سوال جس سے پرانی انتہا پسند سیاسی جماعتیں ان کے خلاف تیر و تفنگ سنبھالے اٹھ کھڑی ہوئی ہیں، AAP کی مرکزی قیادت نے اس کے جواب میں گھبرائے بغیر نہایت اعتماد سے کہا ہے۔

’’یہ لوگ پرشانت بھوشن کو مارنا چاہتے ہیں، ہمیں مارنے سے کیا کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟؟؟ بھارت کے مرکز میں حکومت کرنے والی اس نوزائیدہ جماعت نے مسئلہ کشمیر پر آواز اٹھا کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ بدلے ہوئے بھارتی سماج کی آواز ہے! یہ سماج جس کا ایک حصہ انتہا پسند ہے، مسلمان دشمن ہے، جسے مسئلہ کشمیر سمیت، سرحدوں کی لکیروں تک جو کچھ بھی ہے، ہندوتوا کے خلاف دکھائی دیتا ہے۔۔۔ اس کا دوسرا حصہ جس میں اس وقت ہمیں اروِند کجریوال کی عام آدمی پارٹی سر اٹھائے کھڑی دکھائی دیتی ہے، یہ بھارت کا وہ سیکولر چہرہ ہے، جو آج تک سامنے نہیں آیا۔۔۔ اگر کجریوال کی جماعت اسے دنیا کے سامنے لانے میں کامیاب ہو گی، تو یہ اس کی نہیں انسانیت کی کامیابی ہو گی۔۔۔! یہ خطہ جو اس وقت بری طرح بد امنی اور دہشت گردی کا شکار ہے، جس میں آنے والے بھارتی چناؤ کے مرکزی لیڈر نریندرا مودی کی آواز خون آشام بلا کی طرح گونج رہی ہے۔۔۔ اس میں امن اور انسانیت کا پرچار کرنے والی عام آدمی پارٹی کا وجود غنیمت ہے۔۔۔ جو بلا تفریق و امتیاز، بھارتی شہریوں کی آواز بن کر سامنے آئی ہے۔ اگر اس آواز کا خیر مقدم نہ کیا گیا، تو مسئلہ کشمیر سمیت، بھارتی مسلمانوں کے جتنے مسائل ہیں، انہیں، بی جے پی جیسی انتہا پسند جماعت، سانحات میں تبدیل کرنے میں، ذرا دیر نہ لگائے گی!!

About aapakistan

We are not saying that every single politician is corrupt and greedy. There are many good intentioned people in politics today who want to work honestly for the people of Pakistan. But the current system of polity does not allow honest politicians to function. We are also not claiming that every single person who joins our party will be hundred percent honest. We are saying that it is the system that has become very corrupt and needs to be changed immediately. Our aim in entering politics is not to come to power; we have entered politics to change the current corrupt and self-serving system of politics forever. So that no matter who comes to power in the future, the system is strong enough to withstand corruption at any level of governance.
This entry was posted in Uncategorized. Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s