اشتراکی تحریک کا مذہب سے کوئی تصادم نہیں

انوار فطرت اتوار 22 جون 2014

جہلم کاقصبہ کالاگوجراںمردم خیزمٹی کاحامل ہے۔ اس کی آبادی کے لحاظ سے یہاں کے مشاہیرکی تعداد قابلِ رشک ہے کہ ہمارے ہاں تو شہروں کے شہرخالی ہیں۔ پنجابی کے بہت اعلٰے شاعر درشن سنگھ آوارہ، اردو کے بڑے ہی خوش فکر شاعر اقبال کوثر اور ریلوے کی پہلی ہندوستاں گیر چکا جام ہڑتال کرانے والے ترقی پسند رہ نمامرزا ابراہیم کالاگوجراں ہی کے تھے، سابق بھارتی جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کا قصبہ بھی یہ ہی ہے اور بہت سے اور بھی۔

یوسف حسن 29 مئی 1948 کو یہاںپیداہوئے۔ بی ایڈلاہور کے گورنمنٹ کالج فار ایجوکیشن سے اور ایم اے اردو پنجاب یونی ورسٹی سے کیا۔ بہ طور لیکچررپہلی تعیناتی1975میںچکوال کے گورنمنٹ کالج میںہوئی، وہاں سے اپریل 1980میں راول پنڈی کے گورنمنٹ کالج اصغرمال تبادلہ ہوا اور یہیں 28 مئی 2008 میں سبک دوش ہوئے۔ شعرگوئی لاہور جانے سے پہلے ہی آغازکی، اقبال کوثر صاحب سے اصلاح لیاکرتے تھے۔ اپنے کالج میں 1969-70کابہترین شاعرہونے کااعزازحاصل کیا۔ لاہور میں خالداحمد سے دوستانہ اور شاگردانہ مراسم، ادبی جمالیاتی تربیت احمدندیم قاسمی سے اور کوٹ لکھپت میں مزدور یونینوںمیںکام کیا، نیشنل عوامی پارٹی(نیپ) میںشامل ہوئے۔1970-71کے انتخابات میں حبیب جالب صاحب کے الیکشن ورکررہے، جو صوبائی امیدوار تھے، معروف ترقی پسند امین مغل سے بھی نظریاتی رہ نمائی لی۔

پوٹھوہار میں نظریاتی وابستگی کی کوئی مثال دیناہوتویوسف حسن کانام سب سے پہلے آتاہے۔ علم بانٹنے میں انتہائی فیاض ہیں، بے شمار نوجوانوںکے ترقی پسندانہ مغالطوں کا ازالہ کیا۔ ان کی علمی ادبی ترقی پسندی کا انعام انہیں یہ ملا کہ ان کا گریڈ اٹھارہ سے گریڈ بیس میں موواوور واجب التعمیل تھالیکن آج تک نہیں دیاگیا جس سے انہیںایک طرف دس لاکھ روپے سے محروم کیاگیااوردوسری طرف پنشن میںدس ہزار روپے ماہانہ کاغچّا الگ ماراجارہاہے

کچھ بھی نہیں گھر میں یوسف

اِک حوصلہ بس رہا ہے

مہد سے لحد تک سیکھنے کے مقولے پرعمل کرنے کے خوگریوسف حسن کو ہم نے جب دیکھا مطالعے میںغرق پایا، وہ آج بھی حددرجہ مہین، اُن سوالوں کے جواب تلاش کرتے رہتے ہیں، جو ان ہی جیسے جینیئس کے ذہن میں اٹھ سکتے ہیں۔ بہت خوب صورت غزل کہتے ہیں، مجموعہ لانے میں ہرچندبہت تاخیرکربیٹھے ہیںلیکن اب اس ذیل میںان سے کچھ حسنِ ظن سا ہوچلاہے کہ ’’اے دل اے دریا!‘‘ بس شائع ہونے ہی کو ہے۔ ان ہی کا شعر ہے

یہ جسم وجان تری ہی عطاسہی لیکن

ترے جہان میں جینا مرا ہنر بھی تو ہے

ترقی پسندی کے باب میں بعض مغالطے اور ابہام دور کرنے کے لیے ان سے کچھ عمومی سوالات اٹھائے تھے، ذراجوابوں کے تیورملاحظہ ہوں :۔

ایکسپریس: ترقی پسندی کا بنیادی مسئلہ آخرکیا ہے؟

یوسف حسن: ترقی پسندی کابنیادی مسئلہ سماجی زندگی کے سارے شعبوں میں ایسی تبدیلی اور ارتقا ہے، جس سے ہر فرد کی جسمانی،روحانی اورذہنی صلاحیتوںکی آزادانہ اور مسلسل نشوونما ہوتی رہے، اس نصب العین کے حصول کے طریقۂ کار میں سماجی پیداواری عمل اور سماجی طبقاتی جدوجہدکو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ لینن کے مطابق اس کا میتھڈ اور موٹو چار لفظوں میں Enlightenment through class struggle بنتاہے۔

ایکسپریس: ہمارے ہاں اس پر ہوا کام تسلی بخش ہے؟

یوسف حسن: پاکستان میں دانش ورانہ یا علمی ترقی پسندی کچھ کم زور ہی ہے۔ علمی ترقی پسندی کاکام زیادہ تر درمیانے طبقے کے تعلیم یافتہ افراد کو کرناہوتا ہے، اس میں بہت سخت مقام آتے ہیں لہٰذا یہ تبھی کیاجاسکتاہے جب محنت کش عوام سے محبت گہری ہو۔ یہ محبت قیام پاکستان سے پہلے کے ترقی پسنددانش وروں میںزیادہ تھی اوراُسی نسل نے علمی ترقی پسندی کے مختلف شعبوںمیںکچھ کام بھی کیے لیکن یہ کام نئی نسلوںکی نظریاتی تعلیم و تربیت کے لیے کافی نہیں، ایک تو اس کی مقدارکم ہے، دوسرے اس کا معیار بھی تسلی بخش نہیں۔

ایکسپریس: ذرا معیار والی بات کی وضاحت کردیجے!

یوسف حسن: ہمارے بزرگ ترقی پسنددانش وروں نے ’سماجی تنقیدی عمل‘ کو بنیادبناکر لکھنے کے بجائے زیادہ تر ’’تحریک روشن خیالی‘‘ کی ’’عقلیت پسندی‘‘ اور اس کے دوسرے تصورات کے زیرِ اثر رہ کرعلمی کام کیااور وہ بھی عوماً عالمی سائنسی سماجی ترقی پسندی کے بنیادی ماخذوں کا براہ راست مطالعہ کیے بغیر؛ یہ کام سیاسی معیشت تک محدود ہے۔ سماجی زندگی کئی پہلو رکھنے والاکمپلیکس ہے، ہمیںنفسیات، بشریات، عمرانیات، تاریخیات، آثاریات وغیرہ جیسے شعبوںمیںبھی ترقی پسندانہ علم کی ضرورت ہے کیوںکہ ترقی پسندی پورے انسان کی آزادانہ نشو و نما کے لیے جدوجہدہے۔

ایکسپریس: مذہب کے ساتھ ترقی پسندی کاکوئی قضیہ بنتا ہے؟

یوسف حسن: بالکل بھی نہیں! مذہب اور خاص طور پر اسلام ہمارے لیے نہایت حساس معاملہ ہے۔ مارکس اور اینگلزاسلام کے ظہور کے اسباب اور کردار کو سمجھنے میں بڑے سنجیدہ تھے ، وہ اسے محمدیﷺ انقلاب Muhammadan Religious Revolution تسلیم کرتے تھے اور اسلام کے مختلف پہلوئوں پر آپس میں خط و کتابت بھی کرتے رہے مگر حیرت ہے کہ ہمارے اکثرترقی پسند اسلامی عقائد، شخصیات اور مسلمان اقوام کی تواریخ کے مطالعے ہی سے بے نیازہیں۔یہ ایک علمی المیہ ہے کہ ہمارے پاس پاکستان کے قدیم وجدیدسماج کی تاریخ کے سائنسی مطالعے پر مبنی مواد موجود ہی نہیںاور خاص طور پر ابتدائی صدیوں کی اسلامی تاریخ کابھی کوئی حقیقت پسندانہ معروضی تجزیہ نہیں کیاگیا۔

جب ہمارا دعویٰ ہی سماجی تاریخ کواپنے عوام کے حق میں تبدیل کرنے کا ہے توپھر پاکستان اور مسلمانوں کی سماجی تاریخ سے یہ لاتعلقی کیوں؟ سماجی نصب العین کوسامنے رکھا جائے تواشتراکی تحریک کااسلام سمیت کسی بھی مذہب سے براہِ راست کوئی تصادم نہیں۔ اس سلسلے میںمارکس اور اینگلز کا لکھا ہواکیمیونسٹ مینی فیسٹو بنیادی دستاویزہے، جس میںکسی بھی مذہب کے خلاف ایک سطربھی نہیں، کرسچیئن سوشلزم کی مخالفت اس کے کرسچیئن ہونے کی وجہ سے نہیں کی گئی بل کہ اس کے غیرمجاہدانہ ہونے کی وجہ سے کی گئی۔ روس کا معروف انارکسٹ باکونن پہلی کمیونسٹ انٹرنیشنل میں ’’ملحد سوشلسٹوں کے سیکشن‘‘ کی حیثیت سے رکنیت چاہتاتھالیکن مارکس نے یہ کہہ کر انکار کردیاکہ ورکروں کو مومنوں اور ملحدوںمیںمت تقسیم کرو۔

ایکسپریس: اور وہ افیون؟

یوسف حسن: افیون والا فقرہ مارکس کے 1844 کے مسودات میںآیا ہے، جب ابھی پختہ مارکس ازم کی تشکیل نہیںہوئی تھی، اس نے بعدکی تحریروںمیںاس بات کوکبھی نہیںدہرایا اور جو لوگ خصوصاً ہمارے روشن خیال عقلیت پسند، جومذہب پرتنقیدکو، طبقاتی جدوجہدپرترجیح دیتے ہیں، ان کے بارے میں مارکس نے ’’سرمایہ‘‘ کی پہلی جلدکے ایک فٹ نوٹ میں لکھاہے، کہ تجزیہ کرکے یہ دکھانا بڑا آسان ہے کہ کون سے آسمانی مظاہرکی بنیادکون سے زمینی مظاہرمیں ہے لیکن واحد سائنسی طریقہ یہ ہے کہ یہ دکھایا جائے کہ سماجی رشتے کن Processes سے گزرکرآسمانی مظاہرمیں تبدیل ہوجاتے ہیں، میرے خیال میں جو شخص یہ سائنسی طریقہ استعمال کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا، اسے پہلے طریقے سے بھی دورہی رہناچاہیے۔

ترقی پسندوں کے لیے بنیادی تقسیم روشن خیالوںاورقدامت پسندوں کے درمیان نہیں، ظالموںاورمظلوموںکے درمیان ہے۔ مظلوم قدامت پسندہے یا روشن خیال؛ اس سے زیادہ اہم، اسے ظالموںکے خلاف متحدہ طبقاتی جدوجہد میں لاناہے اور لینن نے تو واضح ہدایت کی تھی کہ خطبوںاورپمفلٹوںکے ذریعے روشن خیالی مت پھیلائو، لوگوںکو طبقاتی جدوجہد میں لاکرروشن خیال بننے دو۔

ایکسپریس: سوشلسٹ، کمیونسٹ سماج میں فرد کی انفرادیت کے سوال پراکثرترقی پسند بدک جاتے ہیں؟

یوسف حسن: یہ حقیقت تلخ اور الم ناک ہے کہ اردو اور ہماری دوسری پاکستانی زبانوںمیںفرد، اس کی ذات، انفرادیت، یک تائی، شناخت اور آزادانہ نشوونماکی اہمیت اور ضرورت کے موضوع پر فلسفیانہ، عمرانیاتی اور نفسیاتی، کسی بھی علمی حوالے سے کوئی سائنسی مواد موجود نہیںاورالمیے پر المیہ یہ کہ خودترقی پسندوں کو بھی اس کمی کااحساس نہیں، سو نتیجہ یہ کہ فردکے مسئلے پر باہمی مکالمہ ہی دشوار ہو جاتاہے، ایک دوسرے سے بات کرنے میںبھی دقت اور سمجھنے میں بھی۔

سید علی عباس جلال پوری ہمارے ایک بڑے ترقی پسند روشن فکر مفکرہیں، بارہ کتابیں ہیںان کی، کسی میںبھی فردکی نظریہ سازی کے بارے میںبات نہیں، ہمارے عزیزحامدمدنی ایک بلند پایہ شاعر تو ہیںہی اس کے ساتھ واقعی ایک عالم ادبی نقادبھی ہیںلیکن فیض احمد فیض کے دفاع میں لکھی اپنی کتاب میں فرد کے مسئلے پر لکھتے ہیں کہ اُس وقت فرد کامسئلہ اتنا اہم تھا ہی نہیں ۔۔۔ ان کے اس جواز پر حیرت ہوتی ہے کیوںکہ اقبال اپنے خطبات اور شاعری میں، خاص طور پر ’’اسرار و رموزخودی‘‘ میں خودی یا ذات کی نظریہ سازی کرچکے تھے، جس کا بنیادی موضوع فردہی تھا پھر یہ کہ خود مارکس، فرد کے حوالے سے بنیادی نظریہ سازی 1845 میں کرچکا تھا، جس کے مختلف پہلو وہ باربار اپنی مختلف تصانیف میں سامنے لاتا رہا مگرہمارے ترقی پسنددانش وروں، ادبی نقادوں اور ادیبوں نے بھی فرد کی نظریہ سازی پر سائنسی تحقیق جاننے کی کوشش ہی نہیںکی۔ سوویت یونین میں جتنا اعلیٰ کام نفسیات اور فلسفے پرہوا، اس سے بھی ہمارے ترقی پسند اب تک بے خبر ہیں۔

سوویت ماہرین نفسیات اور فلسفیوں نے فرد کے بارے میں مارکس کے فلسفیانہ تعقلات کو علمی تحقیقات اورتجربات کی روشنی میںزیادہ نکھارکر پیش کیااوربتایاکہ سماجی پیداواری عمل میں کس طرح حیوانی فرد، انسانی فرد میں تبدیل ہوتا ہے اورجوںجوںجدید ذرائع پیداوارکی ترقی ہوتی ہے، انسان فطرت کے غلبے کے علاوہ محدود خاندانی اور قبائلی رشتوں سے بھی آزادہوتاجاتاہے اور اس کی انفرادیت نکھرنے اور نشو ونما پانے کے امکانات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ سرمایہ داری میںافراد کے نشوونما کے یہ رشتے، زر کے واسطے کے محتاج ہوتے ہیں لیکن یہ ہی زر کے رشتے فرد کو آفاقیت بھی عطا کرتے ہیں۔

مارکس کا ایک دل چسپ فقرہ ہے کہ جس کی جیب میں زر ہے، گویا سارے سماجی رشتے اس کی جیب میں ہیں جب کہ زیادہ سے زیادہ سماجی رشتوںکوذات میںجذب کرنے ہی سے فردکی ذات ثروت مند اور یک تا ہوتی ہے۔ ترقی پسندوں کا حقیقی نصب العین زرکی غلامی ختم کرکے فردکی ہمہ جہت نشوونماہے۔ میں نے 2007 میں جناب احمدندیم قاسمی کی برسی پر لاہورمیںمنعقدہ جلسے میں اپنی گفت گو میں کہا تھا کہ ساٹھ کی دہائی کے جدیدیت پسندوں نے فردکی ذات کے انکشاف و اثبات وغیرہ کاسوال بجا اٹھایاتھا لیکن ترقی پسندوں نے کبھی اس کامعقول جواب نہیںدیا، خودجدیدیت پسندوں نے فردکی ذات کو Given یاپہلے سے عطاشدہ لے لیا، یہ کبھی سوچاہی نہیں کہ اثبات ذات سے تشکیل ذات کیوں کرہوتی ہے۔

سوویت یونین اور فرانس میںمارکسی ماہرین نفسیات نے فرد کی شخصیت اور ذات کی تشکیل کے موضوع پر جتنااعلیٰ کام کیاہے، ہمارے پاکستانی ترقی پسندوں کو نہ تب اس کی خبر تھی نہ اب ہے اور اب تو پہلے سے کہیںبہترعلمی اضافے ہوچکے ہیں۔ بہ ہرحال زیادہ فلسفیانہ بحث میں پڑے بغیر ہمارے لیے فی الحال قابل فہم نکتہ یہ ہے کہ سماجی عمل انسان کے انسان میں ڈھلنے کی اصل بنیادہے، سوشلائزیشن جتنی بڑھتی ہے، انفرادیت بھی اتنی ہی بڑھتی ہے۔ حقیقی ترقی پسندانہ تعلیمات کی رو سے فردکی انفرادیت کا اثبات اورنشوونما ہمارے بنیادی نصب العین کا مرکزی نقطہ ہے، جہاں تک ادب کا تعلق ہے تو انفرادیت کے بغیر کوئی سچا ادب پارہ ہو ہی نہیںسکتا۔

ایکسپریس: اسٹالن کواپنے ساتھیوںکے مقابلے میں کم تر، تھوڑا احمق اور خاصا سفاک دکھایا جاتاہے؟

یوسف حسن: ایک گروہ نے اسٹالن کو غیر مشروط طور پر مسترد کرنے کا رویہ اپنا رکھاہے۔ یہ مسئلہ اتناسیدھاسادہ نہیں، میںاس سلسلے میں امریکی مارکسی مفکر جے سن ڈبلیوا اسمتھ کے اس تجزیے سے متفق ہوں کہ پس ماندہ سماجوں کو ترقی یافتہ سوشلزم کی طرف جانے کے لیے اسٹالنسٹ سوشلزم ’لازمی مرحلہ‘ ہے۔ صنعتی بنیاد کی تعمیر و توسیع کے بغیر محض نیک جذبات و خیالات سے سوشلسٹ سماج نہیںبنایاجاسکتا۔ لینن اور اسٹالن اس ضرورت کو سمجھتے تھے لیکن ٹراٹسکی اس کی اہمیت سے بے خبرتھا، وہ پس ماندہ سماج میں ترقی یافتہ سوشلزم کا نفاذ فی الفورچاہتا تھا۔

بالشویک ورکرتو ویسے بھی ٹراٹسکی کو قبول کرنے پر آمادہ نہ تھے، لینن اور اس کے مابین بنیادی اختلافات 1921 میں پیدا ہو چکے تھے۔ عبوری دور میں ’بیورو کریسی‘ سے کام لینا بھی ضروری ہوتا ہے اور اس کے خطرات سے آگاہ رہنا بھی۔ اسٹالن کی موت کے بعد سوویت بیوروکریسی خاص طور پر غالب آ گئی اور سرکاری سوشلسٹ معیشت کے متوازی زیرزمیںسرمایہ دارانہ معیشت بھی پھلنے لگی، جس نے آخر سوشلسٹ نظام کوبربادکر دیا۔ اس معاملے میں چین اور کچھ دوسرے سوشلسٹ ملکوں کی یہ پالیسی درست ہے کہ انہوں نے محدود سرمایہ داری بحال کرکے سرمایہ دارانہ ذہنیت رکھنے والوں کو ننگاکردیا اورصنعتی بنیاد کی توسیع کا عمل شروع کیاکیوںکہ اس کے بغیر سوشلسٹ سماجی نفسیات پیدا ہی نہیں ہوسکتی۔ سماجی شعورکاتعین سماجی وجودسے ہوتاہے تو سماجی وجود میں مرکزی حیثیت طرزپیداوارکوحاصل ہے۔

ایکسپریس: تو سوویت یونین کے انہدام میں اس کی بیوروکریسی کا ہاتھ رہا؟

یوسف حسن: امریکی مارکسی مفکر برٹیل اولمان کا تجزیہ ہے کہ ’سوویت بیوروکریسی‘ کی حیثیت محنت کش عوام کی Regency کی تھی، جب یہ محنت کش عوام پیداواری قوتوں کو نشو و نما دے کر خود بھی بلوغت کو پہنچ رہے تھے تو سوویت بیوروکریسی نے اقتدار کی امانت واپس ان کے حوالے کرنے کے بجائے نظام ہی توڑدیا۔ پاکستان میںبھی عوام دوست سماج کی تعمیر کے لیے اسٹالنسٹ سوشل ازم کے مرحلے سے گزرنا ضروری ہوگا مگر اس سے بھی پہلے ترقی پسندسیاسی قوتوںکی تنظیم نوضروری ہے۔

ایکسپریس: ایک حلقے کے مطابق ٹراٹسکی بہت ذہین لیڈر تھا، آپ اس کی ترقی پسندانہ آگہی کو مشکوک قرار دیتے ہیں؟

یوسف حسن: ٹراٹسکی کو لینن انقلاب سے چند ماہ پہلے جولائی 1917 میں بالشویکوں میں لے کر آیاتھا، وجہ یہ کہ ٹراٹسکی انگریزی محاورے کے مطابق Big Mouth یعنی بڑبولا تھا اور لینن کو پیٹرزبرگ میں اپنے حریفوںسے مقابلے کے لیے ایسے ہی آدمی کی ضرورت تھی۔ خانہ جنگی کے دوران ٹراٹسکی کو سرخ فوج کاسربراہ بنایاگیا لیکن اسٹالن نے نہایت دانش مندی سے کام لیتے ہوئے دو ایسے جنرل بھی لگادیے جو اس پرنظر رکھتے تھے۔ اسٹالن کے بارے میں جو حقائق گوربا چوف کے دور میںچند آرکائیوز کھلنے پر سامنے آئے، ان کی روشنی میں اسٹالن ایک بالکل مختلف شخص نظرآتاہے۔

وہ دوسری عالمی جنگ شروع ہونے سے پہلے نان پارٹی امیدواروں کے الیکشن لڑنے، ایک سے زیادہ امیدواروں اور خفیہ رائے شماری کے حق میں اپنی بیورو کریسی سے لڑ رہا تھا اس کے علاوہ ٹراٹسکی سمیت دوسرے اکثر روسی مارکسی دانش ور، جو بیرون ملک رہ رہے تھے، اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے اپنے محنت کش عوام کی جدوجہد سے براہ راست کوئی رابطے نہیں تھے جب کہ اسٹالن، لینن کے خاص شاگردکی حیثیت سے مزدور یونینوںکی ہتھیاربند ہڑتالیں منظم کررہاتھا اور سرکاری خزانے لوٹ لوٹ کر لینن کو فنڈز بھی بھجوارہا تھا، یہ ہی نہیں، لینن کا اخبار Iskra (چنگاری) بھی غیر قانونی طور پرجاری رکھے ہوئے تھا، اسٹالن ہی کی وساطت سے لینن کے محنت کشوںسے رابطے تھے۔

اسٹالن دوسروں کی بات نہایت غور سے سنتا تھا، اس کے بارے میںکہاجاتاہے ’’وہ گھاس کے اگنے کی آواز بھی سنتاہے‘‘، عوام کی طرف سے شکایات پر مبنی ساری ڈاک وہ خودپڑھتاتھا۔ ’’ایک ملک‘‘ یعنی روس میں سوشل ازم کی تعمیر کے لیے اس نے کوئی باقاعدہ نظریہ سازی نہیںکی۔ ٹراٹسکی نے پولینڈ میں جرمنوں کے ساتھ جبروتشدد کا جو سلوک کیا، اس سے روس، جرمن ورکروں کی حمایت کھوبیٹھاتھا، اسی باعث جرمنی اور باقی یورپ میں انقلابات نہیں آئے، سرمایہ داروں نے روس کو امداد دینے سے ہاتھ کھینچ لیاتھا، ایسے حالات میںروسی عوام میںیہ احساس پنپ رہاتھاکہ انہیں خود ہی ملک میں سوشل ازم کو تعمیر کرنا چاہیے۔

اسٹالن نے محض عوامی جذبات واحساسات کو محسوس کرکے ’ایک ملک‘ میں سوشل ازم کی تعمیر کااعلان کر دیا حال آںکہ دو ماہ پہلے تک وہ خود ’ایک ملک‘ میں سوشل ازم کی تعمیر کامخالف تھا۔ اسٹالن ٹراٹسکی تنازعے پر جے سن ڈبلیو اسمتھ نے اپنی کتاب ABC’s of Communism, Bolshevism 2013 میں بڑے کام کی بات کی ہے کہ ہمیں اصل دستاویز کا مطالعہ کرناچاہیے۔ اس مطالعے کے نتیجے میں پتاچلتاہے کہ ٹراٹسکی اور اس کے ساتھیوں نے اسٹالن کے بارے میں کتنا جھوٹ پھیلا رکھاہے اور ان کے پھیلائے ہوئے اس جھوٹ کو امریکا کے خفیہ ادارے مزید بڑھاچڑھاکر پھیلاتے رہے۔

ایکسپریس: ٹراٹسکی پر کوئی واضح الزام بھی ہے؟

یوسف حسن: اصل اور سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ اس نے جاپانی سام راج اور جرمن سام راج سے سوویت یونین پرحملے اور اسٹالن کا تختہ الٹنے کی سازباز کی اور جس ہوٹل میں ٹراٹسکی کے آدمی کے ساتھ جاپانیوں کا مالی لین دین ہوا، اس کی ساری تحقیق، تصاویر کے ساتھ، مارکسی الیکٹرانک جرنل کلچرل لاجک میں چھپ چکی ہے، گویا ٹراٹسکی پر اصل مقدمہ غداری کاتھا۔

ایکسپریس: دنیا پر این جی اوز نے یلغارکررکھی ہے، پاکستان بھی لپیٹ میںہے، وہ، جنہیںترقی پسندہونے کادعویٰ تھا، اکثر ان اداروںکی بھول بھلیاں میںگم ہوگئے؟

یوسف حسن: پس منظر کے طور پر ایک تو یہ بات ہے کہ پاکستان کے زیادہ تر چھوٹے بڑے دانش ور، جو مارکسی یا مارکسیت نواز سمجھے جاتے ہیں، وہ اپنے مطالعے اور تجزیے کے طریقِ کار کے لحاظ سے مارکسی تھے ہی نہیں بل کہ ’روشن خیالی‘ کی ’عقلیت پسندی‘ سے زیادہ متاثر تھے۔ اِس لیے ان کے رویوں میں سماجی عمل اور طبقاتی جدوجہد کی حیثیت ثانوی تھی۔ دوسرے یہ کہ بیسویں صدی عیسوی کے آٹھویں عشرے میں عالمی سرمایہ داری ایک نئے دور میں داخل ہوئی، جس میں مائیکرو الیکٹرانک ٹیکنالوجی، کنٹینریزائزیشن (Containarization) اور الیکٹرانک ابلاغ عامہ نے غیر معمولی کردار ادا کیاہے، جس کے نتیجے میں جسمانی محنت کا اخراج بڑھ گیا اور ذہنی محنت کے کردار میں اضافہ ہوا، اس کے علاوہ سماجی خدمات اور بہت سے تہذیبی مظاہر بھی جنسِ بازار بن گئے۔

اس ماحول میں ذہنی محنت کرنے والوں کی مراعات اور ملازمتوں کے مواقع زیادہ ہوگئے، پھر سوویت یونین اور مشرقی یورپ میں اشتراکیت کی ٹوٹ پھوٹ نے بھی درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے بہ ظاہر مارکسی لیکن درحقیقت ’روشن خیال عوام دوست دانش وروں‘ میں مایوسی پھیلا دی۔ اس صورتِ حال میں انہوں نے نظریاتی تعلیم و تربیت کے اصل ماخذوں کا نئے سرے سے مطالعہ کرنے کے بجائے یا تو مختلف طرح کے نشوں، جسمانی لذتوں یا خانقاہوں میں پناہ لے لی یا پھر سام راجی فنڈز سے چلنے والی این جی اوز میں اعلیٰ مراعات کے جو دروازے کھلے، ان کی طرف دوڑ پڑے۔

محض ملازمتوں کی مجبوری کے تحت نہیں بل کہ نظریاتی تبدیلی کے ساتھ؛ وہ اپنی سماجی تاریخ میں عوام کے لیے قربانیاں دینے والوں کی بھی تحقیر و تردید کرنے لگ گئے۔ اس صورت حال میں سچے عوام دوست، ترقی پسندوں پر بڑا کڑا وقت ہے سو ضروری ہو گیاہے کہ حقیقی ترقی پسند دانش ور، سماجی اور تہذیبی شعبوں میں بھی ریاست اور سام راجی این جی اوز اور سماجی و تہذیبی دائروں کے متوازی تیسری قسم کے سماجی تہذیبی ادارے بنائیں اور اپنی عوام دوست جمہوری روایات اور مظاہرکومحفوظ رکھتے ہوئے نئی نسلوں تک پہنچائیں، اس بدلی ہوئی صورتِ حال میں نئے وسائل کے ساتھ اپنی اور اپنے عوام کی نظریاتی اور تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کا کام کریں۔ یہ کام ریاضت اور ایثار کاہے مگرہمیں کبھی نہ کبھی، کہیں نہ کہیں سے تو ایک بار پھر اپنے کام کا آغاز کرنا ہی ہے۔

ایکسپریس: ادب کی زوال پذیری میںکیا مابعدجدیدیت کا بھی کوئی ہاتھ ہے؟

یوسف حسن: بیسویںصدی کی آٹھویںدہائی میں عالمی سرمایہ داری ایک نئے دورمیںداخل ہوئی، جس میںمابعدجدیدیت کی صورتِ حال بھی پیداہوئی اورعالمی سرمایہ دارانہ مارکیٹ کا جزو ہونے کی حیثیت سے یہ صورتِ حال کسی نہ کسی درجے پر ہمارے سماج میں بھی نمودار ہوئی، اس میں محنت کشوں کی تحریکوں میں ٹوٹ پھوٹ ہوئی اور ذہنی محنت کرنے والوں کے کردار میں اضافہ ہوا، اس کے ساتھ ہی مابعدجدیدیت پسندی کے نظریے کی بھی تشکیل ہوئی، جس کی گونج ہمارے علمی اور ادبی حلقوں میں بھی سنی گئی، اسی مابعد جدیدیت پسندی کے نظریے کے زیر اثر ہی مارکسی نظریے کو زیادہ زور شور سے اتھارٹی ٹیٹو قرار دیا گیا۔

مابعد جدیدیت پسندی کا رویہ تو یہاں تک غیر علمی ہے کہ کسی بھی نظریے، حتیٰ کہ نیچرل سائنس کے کسی نظریے کو بھی اتھاری ٹیٹو قرار دے دیتاہے۔ مابعد جدیدیت پسندی اصل میں علمیاتی طور پر اضافیت سے کہیں آگے بڑھ کر اضافیت پرستی میں تبدیل ہو جاتی ہے، جو ہر عالم گیرصداقت یا خاص طور پر انسانی نجات کے عالم گیر نظریے کو مسترد کرتی ہے اور چھوٹے چھوٹے تہذیبی یونٹوںکواپنی اپنی اضافی صداقت کا معیار بنانے اور ان ہی سے کام چلانے کی ترغیب دیتی ہے۔

گویا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سرمایہ داری جتنی وسعت اور گہرائی کے ساتھ عالم گیر ہوتی جا رہی ہے اور اسے انسانیت کے حق میں رد کرکے متبادل انسانیت نواز سماج قائم کرنے کے امکانات جتنے بڑھتے جارہے ہیں، ان امکانات کو حقیقت میں ڈھلنے سے روکنے کے لیے مابعد جدیدیت پسندی کی حاشیہ پسندی، سماجی ریزہ کاری (Fragmentation) اور انفعالیت پسندی کواتناہی پھیلایاجارہاہے اور اس کوگوپی چندنارنگ جیسے نقاد ’’تخیل کا جشنِ زرّیں‘‘ کا خوب صورت نام دے کر ادیبوں میں قابل قبول بنانا چاہتے ہیں۔

بات یہ ہے کہ انسان کو کچھ اضافی آزادیاں حاصل ہیں، جسمانی بھی اور ذہنی؛ انسان اہم کارنامے بل کہ کوئی بھی کام اپنی بعض اضافی آزادیوں کی تحدید (حد بندی) کرکے ہی کرسکتاہے، مثال کے طور پر ہم ایک مقام سے کسی بھی سمت روانہ ہوسکتے ہیں مگر اپنے دفتریا گھر پہنچنے کوکوئی ایک خاص راستہ ہی اختیار کرتے ہیں، باقی چھوڑ دیتے ہیں، اسی طرح ادب میںتخیل اور خاص طورپر جذبہ آمیز تخیل بنیادی حیثیت رکھتا ہے لیکن اگر اس جذبہ آمیز تخیل کو کاری گری یا فنی تیکنیکوں سے کام لیتے ہوئے قابو میں نہ رکھا جائے تو ہم کوئی ادبی ہیئت تخلیق نہیں کرسکتے۔ ادبی ہیئت کی تخلیق کے لیے ہمیں تخیل کا جشن زریں منانے سے خود کو روکنا پڑے گا۔

اردو میں مارکسی جہاں بینی اور علمیات پر مواد نہ ہونے کے برابر ہے۔ مارکسی جہاں بینی سارے سماج کو Totality یا کلیت میں دیکھتی ہے۔ یہ کلیت نہ تو بند وحدت الوجودی کلیت ہے اور نہ ہیگل کی بند کلیت ہے بل کہ مارکسی سماجی کلیت اپنے ماضی اور مستقبل دونوں سروں پر کھلاپن رکھنے والی کلیت ہے اور اس کلیت کے ارکان مسلسل حرکت اور نشوونما میں رہتے ہیں، محض کلیت کی اصطلاح کی وجہ سے اسےTotalianism (بند کلیت پسندی) سمجھ لینا بدترین مغالطہ ہے۔ مارکسی کلیت فرد کی نفی نہیں کرتی بل کہ اسے زیادہ سے زیادہ آفاقیت کو جذب کرکے ثروت مند اور یک تا ہستی میں تبدیل کرنے کا نصب العین رکھتی ہے۔ یہ بات بھی یاد آ گئی کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ اجتماعی سماجی عمل میں شرکت سے فرد کی ذات کی نفی ہوجاتی ہے۔

اس مغالطے کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ فرد کی سوشلائزیشن میں جتنا اضافہ ہوتا ہے، اس کی آفاقیت اور یک تائی میں بھی اتنا ہی اضافہ ہوتا چلاجاتا ہے۔ خود سرمایہ داری نے اپنے تمام تر استحصال اور تشدد کے باوجود بنیادی سماجی تبدیلیوں کے جو امکانات پیدا کیے ہیں، ان کی تعلیم، تعبیر اور عملی تعمیر و تشکیل صرف مارکسی نظریے اور طریقۂ کارہی سے ہوسکتی ہے۔ ادبی اور غیر ادبی ترقی پسندوں نے نہایت مشکل حالات میں جو عملی فکری اور تخلیقی کام کیے، وہ پاکستان کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لیے بھی ایک شان دار ’تحرک بخش ورثے‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ترقی پسندوںکے علمی اور ادبی کام پرخود ترقی پسندوں نے بھی تنقید کی ہے، جن میں، میںبھی شامل ہوں، ہماری یہ تنقید ترقی پسندی کو مزید پُرمایہ اور توانا بنانے کی خاطر ہے۔

ایکسپریس: انجمن ترقی پسند مصنفین بہ حال کی گئی ہے، کیاخیال ہے؟

یوسف حسن: افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ سات برس ہوتے ہیں انجمن ترقی پسند مصنفین کی ملکی سطح پر بہ حالی کو لیکن یہ اب تک ادیبوں کو تنقیدی او ر تخلیقی شعبوں میں نئی فکری، فنی اور جمالیاتی توانائیاں بخشنے سے قاصر ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہوں گی، ایک دو وجوہات شاید یہ ہیں کہ ہمارے اکثر موجودہ ترقی پسند اپنے محنت کش عوام سے اُتنی گہری محبت نہیں رکھتے جو انہیں علمی لحاظ سے نئی نظریہ سازی کے علمی ماخذوں تک لے جائے اور اجتماعی جدوجہد میں شرکت سے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو تابندہ تر کرسکے۔ ہمارے مقابلے میں لاطینی امریکاکے چھوٹے چھوٹے ممالک کے ادبی اور سماجی دانش ور علمی اور فکری لحاظ سے کہیں زیادہ ریاضت والے لوگ ہیں۔

انہوں نے مختلف علمی شعبوں میں قابلِ قدر اضافے کیے ہیں، مثال کے طور پر کیوباکے ایک ماہر نفسیات نے سوویت نفسیاتی تحقیقات کی کوتاہیوں پر گرفت کرتے ہوئے اس کی زیادہ بہتر نظریہ سازی کی ہے، ہمیں بھی اپنے قومی اور عالمی دونوں طرح کے ماحول اور تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر نئے علمی وسائل سے کام لیتے ہوئے زیادہ بہتر ادبی اور فنی نظریہ سازی کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ساتھ اپنے عوام کی طبقاتی جدوجہد میں اپنی توفیق کے مطابق رفاقت ہی ہمارے ادب کو فکری، فنی اورجمالیاتی صورت دے سکتی ہے، نئے جہانوں سے آشنا کر سکتی ہے۔

انجمن ترقی پسند مصنفین کی مختلف شاخوں کو ریاستی اداروں کی نوازشات اور سام راجی تہذیبی اداروں کی مراعات سے بھی بچا کر خودمختار، عوام دوست تہذیبی و تخلیقی ادارے بنانے کی ضرورت ہے۔ عوامی ورکرز پارٹی کے مرکزی سیاسی رہ نما اور ادبی نقاد عابد حسن منٹو نے پارٹی کی ایک میٹنگ میں بڑی دل چسپ بات کہی تھی کہ پہلے جب کوئی سماجی مسئلہ پیداہوتاتھا توہم جلسۂ عام کرتے تھے مگر آج کل لوگ فائیو سٹار ہوٹلوں میں سیمینار کرتے ہیں۔ عابد حسن منٹو کی اسی بات سے مجھے فیض احمد فیض کی ایک بات یاد آتی ہے، انہوںنے کہا تھاکہ جب لاہور کی 42 مسجدوں سے ترقی پسندوں پر کفر کے فتوے لگائے گئے توہم نے مرزا ابراہیم کی صدارت میں موچی گیٹ میں مزدوروں کاجلسۂ عام کیا جس میں 25 ہزار افراد نے شرکت کی۔

یہ باتیں اس لیے اہم ہیں کہ ہمارے ہاں ادب سے لے کر اعلیٰ سے اعلیٰ علمی اور تہذیبی مظاہرکو عوام سے دور سے دورتر لے جانے کا رجحان بڑھتاجارہاہے اور اس رجحان کو بڑھانے میں بیرونی اور مقامی دونوں سرمائے کارفرما ہیں۔ میں نے پہلے بھی یہ بات کی کہ پچھلی صدی کی آٹھویں دہائی میں تہذیبی مظاہرکو جنس بازار بنانے کا رواج عام ہوا، عالمی سطح پر بھی اورمقامی سطح پر بھی۔ یاد آیا کہ 47 سے پہلے کرشن چند اور دوسرے ادبا مزدوروں کے جلسوںمیںجاکراپنے افسانے اور کلام سنایا کرتے تھے، ایسی روایات پاکستان میں بھی قائم رہیں لیکن بالائی درمیانے طبقے کے پاس دولت آئی اور ساتھ ہی سام راجی فنڈز پانے والی این جی اوز نے جو نیا کلچر بنایا اور ایک نئی غیر سرکاری بیورو کریسی بھی پیدا کی، اس نے بھی عوام اور تہذیبی اور تخلیقی شخصیات اور کارناموں کے مابین فاصلوںکوبڑھادیا ہے۔

یہ جوکسی نہ کسی نام سے ادبی میلے بڑے ہوٹلوںمیںمنعقد ہورہے ہیں، ان میںبھی عام آدمی دکھائی نہیںدیتا، بالائی طبقات اور بالائی درمیانے طبقے کی مخلوقات ہی ان میںنظر آتی ہیں۔ ایسے ادبی میلے شغل میلہ تو ہیں، کوئی بڑا تخلیقی تحرک پیدا نہیں کرتے، ان میں فنی وجمالیاتی لحاظ سے شخصیت کی بلندترتشکیل کے لیے نہ کوئی گہرائی ہوتی ہے نہ گیرائی۔ ان میلوںکو دیکھ کر پھر وہی سوال سامنے آتا ہے کہ ہم اپنی ذات کو، اپنے فن کو اور اپنی اعلیٰ سماجی اور جمالیاتی اقدارکوشو کلچر کا حصہ بنانے سے بچانے کی خاطر تیسری قسم سے عوام دوست ادبی و تہذیبی ادارے بنائیں۔ ترقی پسند کی حیثیت سے اپنے عوام کی بلند سے بلند تر سطح پرجمالیاتی تعلیم بھی ہمارے فرائض میں شامل ہے اور اس کے لیے ہمارا اپنے عوام، خصوصاً محنت کشوں سے رابطہ مضبوط تر ہونا چاہیے۔

۱۔سید علی عباس جلال پوری ہمارے ایک بڑے ترقی پسند روشن فکر مفکرہیں، بارہ کتابیں ہیںان کی، کسی میںبھی فردکی نظریہ سازی کے بارے میںبات نہیں، ہمارے عزیزحامدمدنی ایک بلند پایہ شاعر تو ہیںہی اس کے ساتھ واقعی ایک عالم ادبی نقادبھی ہیںلیکن فیض احمد فیض کے دفاع میںلکھی اپنی کتاب میں فرد کے مسئلے پر لکھتے ہیںکہ اُس وقت فرد کامسئلہ اتنا اہم تھا ہی نہیں ۔۔۔ ان کے اس جواز پر حیرت ہوتی ہے ۔

۲۔ اسٹالن، لینن کے خاص شاگردکی حیثیت سے مزدور یونینوںکی ہتھیاربند ہڑتالیں منظم کررہاتھا اور سرکاری خزانے لوٹ لوٹ کر لینن کو فنڈز بھی بھجوارہا تھا، یہ ہی نہیں، لینن کا اخبار Iskra (چنگاری) بھی غیر قانونی طور پرجاری رکھے ہوئے تھا، اسٹالن ہی کی وساطت سے لینن کے محنت کشوںسے رابطے تھے۔ ٹراٹسکی نے جاپانی اور جرمن سام راج سے سوویت یونین پرحملے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی سازباز کی تھی، جس ہوٹل میں اس کا جاپانیوں کے ساتھ مالی لین دین ہوا، اس کی ساری تحقیق اور تصاویر سمیت چھپ چکی ہیں۔

Posted in Uncategorized | Leave a comment

میں بھی عام آدمی ہوں

ارشد سلہری
پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات اور معاشرتی فکری انحطاط کے اس عہد میں اس بات کا اظہار کر دینا کہ ؛؛ میں بھی عام آدمی ہوں ؛؛ اپنی جگہ اہمیت کا حامل اور اخلاقی جرات کا مظاہرہ ہے۔ عام آدمی پارٹی پاکستان کے اعلان اور تشہیر کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے ایس ایم ایس ، ٹیلی فون ، ای میل ،شوشل میڈیا کے ذریعے اور عام آدمی پارٹی پاکستان کے فارم بھر کر اپنے سیاسی شعور کا اظہار اس طرح کہ ؛؛ میں بھی عام آدمی ہوں ؛؛ عام عوام کی جانب سے ایسا اظہار پاکستان کی پولٹیکل اکنامک صورتحال میں مثبت اشاریئے ہیں ۔ یہ اس امر کا بھی اظہار ہے کہ عام عوام مقبول اور بڑی سیاسی قوتوں سے نالاں ہیں اور وہ اپنی پارٹی بنانے کی خواہش رکھتے ہیں ۔میں بھی عام آدمی ہوں، دوسری جانب امراء اور طبقہ اشرافیہ کے خلاف مزاحمت کا اظہار بھی ہے اور اس امر کا اعلان ہے کہ جاگیرداروں ، سرمایہ داروں اور اجارہ داروں کی سیاسی پارٹیوں سے ہم بیزار ہیں اور عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے اور فریب کرنے والے سیاستدانوں کو مسترد کرتے ہیں۔ ان جعل سازوں کو جو کبھی تبدیلی اور کبھی انقلاب کے کھوکھلے نعرے لگاتے ہیں ان کی اصلیت اچھی طرح پہچان چکے ہیں ۔ ان ابن الوقت اور موقع پرستوں اور مداریوں سے بھی واقف ہیں جو سیاسی جماعتوں کے نام پر کمپنیاں بنا کر اشتہار بازی کرتے ہیں اور عام عوام کے مسائل اور دکھوں کا واویلا کر کے کمپنی کی مشہوری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ عام عوام کی جانب سے عدم پذیرائی پر یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ عوام میں شعور نہیں ہے ، ان احمقوں کو یہ نہیں معلوم کہ عام عوام کا یہی تو اعلیٰ شعور کا اظہار ہیں کہ وہ کھرے کھوٹے کی پہچان کا ہنر جانتے ہیں ۔مادر وطن میں سیاست کو جب سے ایک منافع بخش کاروبا ر بنا دیا گیا ہے۔ یوسی ، تحصیل ا اور ضلع ناظم سے لیکر ایم پی اے ، ایم این اے اور سنیٹر بننے والوں کے راتوں رات بنک بیلنس کئی گنا بڑھ جاتے ہیں ، جدید ترین گاڑیوں میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ کئی شہروں میں کوٹھیاں بن جاتی ہیں ۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے ملکوں میں جائیدادوں کی خریداری شروع ہوجاتی ہے ، طاقت کا نشہ الگ ہوتا ہے ۔ اس چمک دمک ، دولت اور شہرت کے معاشرے پر اس طرح کے اثرات مرتب ہوئے ہیں کہ اچانک ایک شخص اٹھتا ہے بغل میں فائل دبا کر الیکشن کمیشن جا کر اپنی پارٹی رجسٹرڈ کروا لیتا ہے اور خود ساختہ پارٹی چیئرمین بن کر اخباری بیان جاری کرنے کا شغل شروع کر دیتا ہے اس کے سوا اسے علم ہی نہیں ہوتا ہے کہ اور کیا کرنا ہے ۔ ون مین پارٹیوں کی بہتات ہے ۔ یہ عجیب معاملہ ہے سیاسی جماعت بنانے سے قبل ہی اس کی رجسٹریشن ہوجاتی ہے ، الیکشن کمیشن کے کلرک حضرات پارٹی رجسٹریشن کے امیدواروں کو خود رجسٹریشن کا؛؛ اصل؛؛ طریقہ سمجھا دیتے ہیں ۔ یہ بھی کمال ہے رجسٹرڈ ہونے والی پارٹی کے ممبران ، آئین اور منشور مستعار لیکر وقتی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے ۔سبحان اللہ ، آغاز ہی دونمبری سے ہوتا ہے اور کوسنے عوام کو دیئے جاتے ہیں کہ عوام میں شعور نہیں عوام میری پارٹی میں شامل نہیں ہو تے ہیں۔ دلچسپ بات ہے کہ پارٹی رجسٹرڈ کروانے والے عوام کے پاس بھی نہیں جاتے ہیں وہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ عوام ان کے دروازے پر خود آئے ۔سیاسی پارٹیاں عوام سے ملکر معرض وجود میں آتی ہیں ۔ پیپلزپارٹی کا قیام پاکستان میں زندہ مثال ہے۔ جو پارٹیاں ڈرائنگ رومز میں تشکیل پاتی ہیں اور ان کی شروعات ہی الیکشن کمیشن میں غلط بیانی ، جھوٹی دستاویزات اور رشوت کی ادائیگی سے ہو ایسی پارٹیاں ڈرائنگ رومز میں دفن ہو کر رہ جاتی ہیں ۔سیاسی تاریخ کا حرف حرف اس بات کا گواہ ہے کہ پارٹیاں سرمایہ سے بنتی ہیں اور نہ سرمایے سے عوامی پذیرائی حاصل ہوتی ہے، پارٹیاں نظریات ، حکمت عملی اور عوام کی جڑت کے ساتھ بنتی ہیں اور پذیرائی حاصل کرتیں ہیں۔جب پارٹیوں میں سرمایہ اور تجارت کے اصول (نفع و نقصان )شامل ہوجاتے ہیں پھر وہ سیاسی پارٹیاں نہیں رہتی بلکہ منڈی کی تجارتی کمپنیوں کا روپ دھار لیتی ہیں جس طرح کی آج کی سیاسی پارٹیاں ہیں جن میں پارٹی ٹکٹوں پر باقاعدہ بولی لگتی ہے اور ممبران کی خریدو فروخت ہوتی ہے۔عام آدمی پارٹی پاکستان کے حوالے سے بھی ایسے سوالات کا سامنا ہے ، کیا پارٹی رجسٹرڈ ہے ؟پارٹی چلانے کیلئے وسائل ہیں؟ پارٹی میں کوئی اہم اور مشہور شخصیت شامل ہے؟ پاک آرمی کی بیک کے بغیر پارٹی کیسے چلے گی۔؟ وغیرہ وغیرہ ، ایسے سوال کرنے والے معصوم دوستوں کو جواب یہ ہی ہوتا ہے کہ عام آدمی پارٹی پاکستان کے پاس سیاسی نظریہ کی طاقت ہے۔میں بھی عام آدمی ہوں کا نعرہ مستانہ بلند کرنے والوں میں رجسٹریشن ہے اور عام آدمی ہی ہمارا سرمایہ اور وسائل ہیں اور عام آدمی ہی اہم شخصیت ہے۔ میں بھی عام آدمی ہوں یہی سچا جذبہ ہے ، فتح ہمیشہ سچے جذبوں کی ہوتی ہے اور آخری فتح عام آدمی کی ہوگی۔

Posted in Uncategorized | 1 Comment

عام آدمی کا پاکستان

ارشد سلہری
وطن پاک کے عام عوام اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ حکمرانوں اور طبقہ اشرافیہ کا پاکستان الگ ہے جہاں انہیں زندگی کی تما م تر سہولیات دستیاب ہیں اور عیش و عشرت کا سامان میسر ہے جبکہ عام عوام کاپاکستان وہ پاکستان ہے جس میں عام آدمی کی عزت و آبرو سمیت جان ومال غیر محفوظ ہے ۔ جہاں روز گار میسر ہے اور نہ زندگی کی بنیادی ضروریات دستیاب ہیں۔عام آدمی بیمار ہوتا ہے تو اسے اپنی صحت خریدنے کے لئے جن ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے پاس جانا پڑتا ہے وہ اس کی جیب پر تو ڈاکہ ڈالتے ہی ہیں اس کو غیر معیاری اور جعلی ادویات دیکر اسے موت کے منہ میں بھی دھکیل دیتے ہیں۔اسی طرح عام آدمی کے پاکستان میں بنیادی انسانی ضروریات کی عدم دستیابی کے باعث شرح اموات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ عام آدمی کے پاکستان میں انسانی بربادیوں کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست ہے جس سے ہر شہری واقف ہے ۔میڈیا میں بھی اس کی تشریح ہوتی رہتی ہے ۔ ہر خاص و عام بھی عام آدمی کے پاکستان کے مسائل اور مشکلات پر بات کرتا ہوا نظر آتا ہے لیکن اصل مسلہٗ مسائل و مشکلات سے نجات اور محرومیوں کا خاتمہ کرنا ہے ۔عام عوام پارٹی (عام آدمی پارٹی پاکستان)کا قیام اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ محرومیوں اور مسائل سے نجات کیلئے عام آدمی خود میدان عمل میں نکلے اور اپنی محرومیوں اور مشکلات کے خاتمہ، آئینی ،سیاسی اور بنیادی انسانی حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد کے لئے خود کو تیار کرے، اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں میں لیکر خود فیصلے کرے ۔اس کے علاوہ نجات کا دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ ہر عام آدمی اس نعرے کے ساتھ ؛؛ سیاست ہر عام آدمی کا حق ہے ،، خار زار سیاست میں اترے اور اپنی اجتماعی قوت اور جدوجہد سے محرومیوں اور مسائل کو شکست دیکر اپنی دنیا تخلیق کرے ، جہاں زندگی کی تما م نعمتیں اور ثمرات حاصل کر سکے ۔عام آدمی کا سیاست میں آنا اور سیاست کو سمجھنا آج کے عہد میں بہت ضرروری ہے کیونکہ پڑوسی ملک بھارت میں عام آدمی کی مقبولیت سے خوف زدہ ہو کر پاکستان میں خواص کی سیاسی جماعتوں نے عام آدمی کا راگ الاپنا شروع کر دیا ہے تاکہ پاکستان کے عام آدمی کو فریب دیکر سیاست سے ہمیشہ کی طرح دور رکھا جائے ۔
Posted in Uncategorized | Leave a comment

Interview

Interview

Arshad Sulahri

Image | Posted on by | Leave a comment

Interview

Interview

Arshad Sulahri

Image | Posted on by | Leave a comment

عام آدمی کا پاکستان

وطن پاک کے عام عوام اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ حکمرانوں اور طبقہ اشرافیہ کا پاکستان الگ ہے جہاں انہیں زندگی کی تما م تر سہولیات دستیاب ہیں اور عیش و عشرت کا سامان میسر ہے جبکہ عام عوام کاپاکستان وہ پاکستان ہے جس میں عام آدمی عزت و آبرو سمیت جان ومال غیر محفوظ ہے ۔ جہاں روز گار میسر ہے اور نہ زندگی کی بنیادی ضروریات دستیاب ہیں۔عام آدمی بیمار ہوتا ہے تو اسے اپنی صحت خریدنے کے لئے جن ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے پاس جانا پڑتا ہے وہ اس کی جیب پر تو ڈاکہ ڈالتے ہی ہیں اس کو غیر معیاری اور جعلی ادویات دیکر اسے موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔اسی طرح عام آدمی کے پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق اور سہولیات سمیت عدم تحفظ کے باعث شرح اموات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ عام آدمی کے پاکستان میں انسانی بربادیوں کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست ہے جس سے ہر شہری واقف ہے ۔میڈیا میں بھی اس کی تشریح کی جاتی ہے ۔ ہر خاص و عام بھی عام آدمی کے پاکستان کے مسائل اور مشکلات پر بات کرتا ہوا نظر آتا ہے لیکن اصل مسلہٗ مسائل و مشکلات سے نجات اور محرومیوں کا خاتمہ کرنا ہے ۔عام عوام پارٹی (عام آدمی پارٹی پاکستان)کا قیام اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ محرومیوں اور مسائل سے نجات کیلئے عام آدمی خود میدان عمل میں نکلے اور اپنی محرومیوں اور مشکلات کے خاتمہ، آئینی ،سیاسی اور بنیادی انسانی حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد کے لئے خود کو تیار کرے، اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں میں لیکر خود فیصلے کرے ۔اس کے علاوہ نجات کا دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ ہر عام آدمی اس نعرے کے ساتھ ؛؛ سیاست ہر عام آدمی کا حق ہے ،، خار زار سیاست میں اترے اور اپنی اجتماعی قوت اور جدوجہد سے محرومیوں اور مسائل کو شکست دیکر اپنی دنیا تخلیق کرے ، جہاں زندگی کی تما م تر نعمتوں اور ثمرات حاصل کر سکے یہی انسان کی معراج ہے

Posted in Uncategorized | Leave a comment

AAP

AAP

Image | Posted on by | Leave a comment

مسلم لیگ ن کا نیا جنم

ارشد سلہری
مادر وطن کی سیا سی تاریخ میں بعض سیاسی و مذہبی جماعتوں اور سیاستدانوں کا کردار مضائقہ خیز ہی نہیں بلکہ اکثر اوقات شرمناک بھی رہا ہے ۔تاریخ کے اس سفر میں پیپلزپارٹی ایسی جماعت ہے جس نے عوامی سیاست کی طرح ڈالی اور عوامی خواہشات و مطالبات کو اپنی سیاسست کا محور بنایا ،پیپلزپارٹی کو اس سفر میں بڑی قربانیاں دینا پڑی، پارٹی سربراہ ذولفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو جیسے لیڈر عوامی حقوق پر شہید ہوئے ذولفقار بھٹو کے بیٹوں کامریڈ شاہنواز ،میر مرتضےٰ بھٹو سمیت لاکھوں کارکن عوامی حقوق کی اس تحریک میں کام آئے۔عہد رواں کی پیپلز پارٹی تمام تر خرابیوں کے ساتھ جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے ۔ پیپلز پارٹی کی سیاسی حریف اور پاکستان کی دوسری بڑی حکمران پارٹی مسلم لیگ ن کا ماضی اور نظریاتی اساس کی تفصیل میں جانے کے بجائے مسلم لیگ ن کا نیا کردار مناسب موضوع ہے ۔ آج کی مسلم لیگ ن میں خواجگان سعد رفیق اور خواجہ آصف کی لب کشائی اہمیت کی حامل ہے اور جماعت کے اندر ایک نئے رجحان کی عکاسی ہے ۔لیگی قائد میاں نواز شریف کی نئی حکمت عملی اور سیاسی انداز سے بھی اس امر کی گواہی ملتی ہے کہ مسلم لیگ ن سے ایک نئی جماعت کا جنم ہونے جارہا ہے جو اینٹی اسٹبلشمنٹ،عوامی جڑت اورلبرل خیالات کی حامل ہو گی ،ملک و قوم کیلئے یہ خوشی کی خبر ہوگی ۔استادلوگ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن پر پیپلز پارٹی کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ میثاق جمہوریت کے ثمرات ہیں اور یہ سارا کمال آصف علی زرداری کا ہے جس نے مفاہمت کی سیاست کو رواج دیا ۔ آصف زرداری کی مفاہمتی سیاست سے لیگی لوگ متاثر ہوئے ہیں ،تبھی لیگی قیادت مفاہمتی سیاست کو ملکی مفاد میں بہتر خیال کر رہی ہے۔دوسری جانب مسلم لیگ ن پر جو مذہبی ا ور غیرجمہوری رویوں کے اثرات تھے زائل ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اس امر کا مظاہرہ معروف صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد پیدا ہونے والی صوتحال میں نظر آتا ہے۔اس موقع پر غیر جمہوری قوتوں کا طوفان بپا کرنا ، عساکر کو بھڑکانے کی مذموم کوشش اور مذہب کو ہتھیار بناکر اپنی خواہشیات کی تسکین کے لئے قوم کے جذبات سے کھیلنے کی حرکات پر لیگی حکومت کا تحمل اور حکمت سے دیکھنے کا انداز ایک جمہوری فکر کا نتیجہ ہے۔ٹکے ٹکے پر بکنے والے جس طرح اپنے ریٹس بڑھانے کے لئے برائے فروخت کے بورڈ اٹھا کر نکلے اور دھماچوکڑی مچائی اور شرمناک طریقے سے عسکری اداروں کی قصیدہ گوئی کے ڈھول بجاے ،اس سارے کھیل تماشے میں حکمرانوں نے بالغ نظری سے کام لیتے ہوئے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا کہ جس سے جمہوریت پر حرف آتا ، ورنہ تو ڈھول بجانے والوں کے پچھے مٹھائیاں تقسیم کرنے والے تیار کھڑے تھے جو بگل بجتے ہوئے ہی لڈو بانٹنے شروع کر دیتے۔لڈو کے لالچ میں طاہرلقادری کنیڈا سے ہی میدان میں اترے اور عمران خان نہ نہ کرتے ہوئے بھی لڈو کے چکر میں ہے ۔ چودھری برادران تو پرانے لڈو خور ہیں ان کا پنڈال میں آنا اچنبے والی بات نہیں ہے۔باخبر حلقے کہتے ہیں کہ بولی موخر ہے ۔سٹال سجانے والوں کا سودا بکنے والا نہیں ہے انہیں خجل خواری کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا فی الحال ان کو جمہوریت ہی براشت کرنا پڑے گی ویسے بھی لڈو کھانے کا دور گزر چکا ہے ۔جس طرح آصف زرداری نے ڈھول بجانے والوں لڈو سے محروم رکھا اسی طرح میاں نواز شریف بھی لڈو کھانے کی نوبت نہیں آنے دیں گے۔کہنے والوں کا کہنا ہے کہ میاں نوازشریف بھی آصف زرداری کے مماثل کردار ادا کرنے کی ٹھان چکے ہیں ۔ وہ ڈھول بجانے والوں کی نہیں سنتے صرف ڈھول کی سنتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ آصف زرداری کو بھی زیر کرنے کے لئے ڈھولچی بے چین تھے ۔ اس وقت تو میاں صاحب خود مموگیٹ لیکر عدالت عظمیٰ پہنچ گئے تھے تاہم سمجھ آنے پر واپسی اختیار کرلی تھی۔آج جب کہ پارلیمان سمیت صوبائی اسمبلیوں کو ایک خاص سیاست کے اکھاڑے میں لانے کیلئے بعض ابن الوقت سیاسی مہرے میدان سجائے ہوئے ہیں جو ایک نجی ٹی وی چینل کی خبر اور پروگرام کے کچھ حصوں کو بنیاد بنا کر اپنے مذموم مقاسد کی تکمیل چاہتے ہیں اور چند نام نہاد صحافیوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔
انہیں جو سبق پڑھایا جاتا ہے وہ طوطے کی طرح پڑھتے جاتے ہیں ، مذہب کا ہتھیار بنا کر معاملہ کو طول دیکر جمہوری قوتوں کا راستہ روکنے کی شرمناک کوشش ہے ۔حکمران جماعت کا جمہوریت کے ساتھ کھڑنے ہونے عزم اور آزادی صحافت پر واضح پوزیشن مسلم لیگ ن کی روایت سے ہٹ کر ایک نئی اٹھان ہے جو کہ ملک و قوم کیلئے خوش ائند امر ہے۔مادر وطن میں جمہوری رویوں کے فروغ اور جمہوریت کی آبیاری کے لئے سنگ میل ہے۔ مسلم لیگ ن اپنے نئے جنم اور کردار پر خراج تحسین کی مستحق ہے ۔

Posted in Uncategorized | Leave a comment

سیاسی گماشتے

ارشدسلہری
مفادپرستی اوراین الوقتی کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے قوم کے فرد کی حیثیت سے کچھ اصول وضوابط ہوتے ہیں،معاشرے کا ایک رکن ہوتے ہوئے انسان پر کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہے اور اس کے کچھ فرائض ہوتے ہیں،یہ عجیب وغریب لگتا ہے کہ کوئی ہوا کا رخ دیکھ کر اپنی سمت بدل لے یاچھوٹے چھوٹے مفادات اور وقتی فائدے کیلئے خود کو نیلامی کیلئے پیش کرے اور اپنے ہاتھ سے اپنا اشتہار بنوا کر چوراہوں پر لگا دے کہ میں چندٹکوں پر بُک گیاہوا اور میرے کوئی اصول نہیں ہے اور نہ میرے نزدیک کسی ملک وقومی معاملے کی کوئی اہمت ہے اور ضمیروفروشی ہی میرا پیشہ ہے اور میں ایک ٹکے ٹکے پر بکنے والی شے ہوں انسان نام کی میرے اندر کو ئی خصلت موجود نہیں ہے۔وقتی مفاد اور سستی شہرت کے حصول کیلئے میں کسی کو بھی اپنا باپ کہہ سکتا ہوں اس کیلئے بے شک کوئی گدھا ہی کیوں نا ہو میری آنکھوں پر لالچ اور خود غرضی کی پٹی بندھی ہوتی ہے نہ میں اہل بصیرت ہوں اور نہ اہل عقل ہوں کرسی اقتدار پر کوئی ڈاکو ہو یا چور ہو ملکی آئین توڑنے والا ہو یا ملکی مفادات کیخلاف غداری کرنے والا ہو مجھے بس جی حضوری کرنی ہے اور اس کی خوشامداور چاپلوسی ہی میرا مقصد حیات ہے۔ایسے ہی لوگوں کی طرف سے بے حیاتی،بے شرمی اور بے غیرتی کے مظاہرے اس وقت بہتات کے ساتھ دیکھنے کوملے جب ایک عوام کی منتخب کردہ جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اور پاکستان کا آئین روندکر ایک ڈکٹیٹرملک وقوم کی تقدیر کا مالک بن گیا،خود غرض،چاپلوسی،خوشامدی،این الوقت اور وقتی مفاد اور چھوٹے چھوٹے فائدوں کیلئے بکنے والوں نے اپنی نیلامی کے اشتہارات اہم شاہراوں اور چوراہوں پر مشرف لورز،مشرف حمایت تحریک افواج پاکستان حمایت تحریک،پرویزمشرف فاؤنڈیشن،مشرف لورزکونسل،مشرف لورزفورم کے ناموں پر آویزاں کئے اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اپنی تصویر وں کو ایک باوردی ڈکٹیٹرکی تصویروں کے نیچے سجایاگیااخبارات میں اخباری کارکنوں کی منت سماجت کرکے خبریں چھپائی گئیں،پرویزمشرف کی شان میں قصیدہ گوئی کی گئی،نوازشریف اور بینظیر بھٹو کی کبھی نہ وطن واپسی پر بلند وبانگ نعرے لگائے گئے اور دونوں جمہوری قوتوں کو ملک دشمن،قوم دشمن اور جمہورریت دشمن قراردیا گیاملک وقوم کیلئے پرویزمشرف کو نجات دہندہ قرا ر دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی،کبھی اسے قائداعظم کے ساتھ تشبیع دی گئی اور کبھی اسے انقلابی رہنماکا خطاب دینے کی جسارت کی گئی۔الغرض ان ٹٹ پونجیوں نے پرویزمشرف کی شان میں جو کچھ کہہ سکتے تھے کہا اوراسے ملک و قوم کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کھلی اجازت دی گئی،لال مسجد سے وانا اور سوات تک قتل وغارت گری کا لامتناہی سلسلہ شروع کرنے سمیت بلوچستان کے مظلوم عوام پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑنے کے لائسنس دئیے گئے،اوکاڑہ کے غریب ہاریوں اور کاشتکاروں کے کیخلاف جبروظلم کیلئے اس کی پذیرائی کی گئی،عدالتوں کو پاؤں تلے روند دیا گیا غربت کی تعریف بدل دی گئی کہ جو کبھی کھانا کھالیتاچاہیے وہ اپنا جسم بیچ کرہی کیوں نہ کھاتے وہ غریب نہیں ہے،زیادتی کا شکار عورتوں کو کاروبار کرنے کا طعنہ بھی ان ہی ابن الوقت لوگوں کے رہبرنے دیا۔پرویز مشرف کو سرآنکھوں پر بٹھانے والے اور اس کے گیت گانے والے اور قصیدہ گوئی کرنے والوں میں سے کوئی بھی آج نظر نہیں آتا ہے وہ دوبارہ اپنے بلوں میں واپس چلے گئے ہیں یانئے روپ میں آج پھر وہ اشتہار بازی کررہے ہیں لیکن آج ان کے اشتہاروں پر ویزمشرف کی تصویریں نہیں ہیں آج ان کے اشتہاروں پر بے نظیر بھٹو،آصف علی زرداری اور بلاول کی تصویر یں سجی ہیں اور خود وہ پھربڑی ڈھٹائی کے ساتھ اپنی تصویروں کو بلاول ،آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو شہید کی تصویر کے نیچے سجائے ہوئے ہیں معلوم نہیں یہ لوگ کہا ں سے آتے ہیں اور پھر کہاں چلے جاتے ہیں،پرویزمشرف کے آٹھ سالہ دور حکومت میں بلاول توبڑی آب تاب کے ساتھ موجود تھے لیکن ان کے لورز کا کہیں نام ونشان نہیں تھا،آصف علی زرادی صاحب بھی اپنے 11سال جیلوں میں پورے کررہے ہیں تھے لیکن اس وقت ان کی تصویریں چوراہوں میں لگانے والے نایاب تھے۔محترمہ بینظیر بھٹو جو آمریت کے خلاف جنگ لڑرہی تھی اور اسی محاذ پر لڑتے لڑتے شہادت فرماگئی ان کے عقیدت مند اور جانثاراں بھی پاکستان میں غائب تھے۔نوازشریف لورزاورنواز شریف فورس اور شہباز شریف فورس کے چیئرمین بھی کہیں نظر نہیں آتے تھے جب جلاوطنی میں دونوں رہنماؤں کو آمریت کے خلاف لڑنے کیلئے فورسز کی ضرورت تھی اور اب جب انہیں تمام تر فورسز دستیاب ہیں معلوم نہیں یہ شہبازشریف فورس کے جانباز کہاں سے برآمد ہوگئے ہیں۔
سیاسی گماشتوں کی ایک اورقسم بھی ہے جوفاروڈبلاکوں کی نظرمیں ہمیں نظرآتی ہے اورجوچڑھتے سورج کودیکھ کراپنا رخ بدل لیتے ہیں،پارٹیاں بدل لیتے ہیں اورہمیشہ اقتدار سے لطیف اندوزہوتے ہیں ،ایک دن وہ نوازشریف کونکما سیاستدان قراردے رہے ہوتے ہیں اوردوسرے دن وہی موصوف نوازشریف کوقائداعظم ثانی کہہ رہے ہوتے ہیں آج کل ٹی وی پرایک خاتون بڑی تواثرکے ساتھ اپنا اظہارخیال کرتی ہوئی پائی جاتی ہے جودورآمریت میں وزارت کے مزے اڑا رہی تھی اورپرویزمشرف کواپناباس اورقائداعظم قراردے رہی تھی آج وہی خاتون اپنی نئی پارٹی کی پوزیشنوں کا دفاع کرتے ہوئے ہلکان ہورہی ہوتی ہے خاتون کے بارے میں بعض لوگوں کا گمان ہے کہ وہ بڑی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے حالانکہ اس کی گفتگو اورخیالات اس سے آگے نظرنہیں آتے ہیں کہ وہ صرف اورصرف مفادکاحصول مدنظررکھے ہوئے ہے ،ایسی بے شمارخواتین وحضرات ملک پاکستان میں بکثرت پائے جاتے ہیں اورطاقتوراوربرسراقتدارگروپ اورپارٹیوں میں اپنی جگہیں بدلتے ہوئے ملتے ہیں یہ لوگ کہاں سے آتے ہیں اورانہیں کون درآمد کرتا ہے یہ سوال تاحال حل طلب ہے لیکن ایک بات جوسامنے آئی ہے وہ نظریاتی سیاست کافقدان ہے اورسیاسی پارٹیوں میں سیاسی تربیت اورغیرنظریاتی ماحول ہے جواسے لوگوں کیلئے نقب کاکام کرتا ہے اگرایسے لوگوں کاراستہ روکنا ہے اورعوام اورپارٹی کارکن اگرایسے سیاسی گماشتوں سے اپنی پارٹیوں کوبچانا چاہتے ہیں اورعوام سے ہونیوالے فراڈ کاخاتمہ چاہتے ہیں ،توپارٹیوں میں نظریاتی خلاکوپرکرنا ہوگا اورسیاسی پارٹیوں میں سیاسی نصاب پڑھانے اورکارکنوں میں ایک خاص نظریاتی تربیت کا نظام قائم کرنا ہوگا تاکہ ابن الوقت اورمفادپرست سیاسی گماشتے کسی بھی راستے سے پارٹیوں میں داخل نہ ہونے پائیں اورنقب زنی کاسلسلہ ختم ہواورایسے سیاسی راہنما اورسیاسی قیادت وجود میں آئے جوملک وقوم کے مسائل سے آگاہ ہواورسیاسی اصولوں کی کاربندہواورملک اورسیاسی استحکام کی طرف بڑھ سکے وگرنہ سیاسی گماشتوں کی پیداوارمیں اضافہ ہوگا اورپھرسیاسی قیادت بھی سیاسی گماشتوں پر ہی مشتمل ہوگی۔

Posted in Uncategorized | Leave a comment

نوجوانوں کے نام

ارشدسلہری
پاکستان کے قیام کوآج 67سال گزرچکے ہیں ان 67سالوں میں قیام پاکستان کے مقاصد اورجوخواب دیکھے تھے وہ پورے نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی قوموں کی دنیا میں بطورقوم اپنی شناخت کروانے میں کامیاب ہوئے ہیں پاکستان کی زندگی کا ہرگزرتا دن اپنے پیچھے ان گنت مسائل اورمشکلات چھوڑتا چلاگیا ہے ہمارا ماضی تلخیوں اورشرمناک تاریخی غلطیوں اورواقعات سے عبارت ہے ہم بطورپاکستانی شہری اپنے ماضی پرفخرکی بجائے شرمندہ ہوتے ہیں نئی نسل اورنوجوان طبقات کیلئے پاکستان کی تاریخ میں کوئی ایسا سبق نہیں ہے کہ اس کوبنیاد بناکرنئی نسل اورنوجوان طبقات اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرسکیں بلکہ نئی نسل اورنوجوان طبقات کومنصوبہ بندی کے تحت معاشرے کامتحرک اورفعال رکن نہیں بننے دیاگیا ہے نوجوانوں کی ذہانت کوضائع کرنے اوران کی سوچوں کومفلوج کرنے کیلئے تمام ترحربے استعمال کئے گئے ہیں نوجوانوں کاکتاب سے رشتہ توڑ کراسے کرکٹ کے سحرمیں مبتلا کردیا گیا ہے کرکٹ کے سحرکونوجوانوں کے اذہان میں بسانے کیلئے اربوں ڈالرکی سرمایہ کی جارہی ہے کرکٹ کے کھلاڑیوں کوضرورت سے زیادہ میڈیا کوریج دی جاتی ہے اوران کواس قدرمعاوضے دئیے جاتے ہیں تا کہ ان کی زندگی اورلائف سٹائل نوجوان طبقات کا آئیڈیل بن جائے اورنوجوان سیاسی لیڈر،ڈاکٹر، انجینئریاسائنسدان بننے کی بجائے کھلاڑی بننے کوترجیح دیں کوئی کرکٹر چھکاچوکا لگادیتاہے تواس کی جھولی کروڑوں ڈالروں سے بھردی جاتی ہے تاکہ نوجوان کے اندریہ بات غیرمحسوس طریقے سے پیداکی جائے کہ کھلاڑی بن کردولت، شہرت اورعزت جلدی اورآسان کمائی جاسکتی ہے فلموں ،ڈراموں کے ذریعے بھی نوجوانوں کوسیاست اوراعلیٰ مقاصد سے ہٹانے کی منظم سازش کی جارہی ہے آج کانوجوان سیاست سے نفرت کرتا ہے مذہبی رحجان سے عاری ہے سیاسی جگادروں اورملکی وسائل پرقابض قوتوں کوآج نوجوانوں سے کوئی خوف نہیں ہے لیکن پھربھی وسائل پرقابض قوتیں وہ کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں کہ نوجوان آگے بڑھنے کے قابل نہ رہیں اورنہ وہ آگے بڑھیں سیاست اورملکی نظم ونسق چلانا صرف انہیں کاہی حق ہے طلباء یونین پرپابندی ،حصول تعلیم کے راستے محدود کردیئے ہیں تعلیم اس قدر مہنگی کردی گئی ہے کہ عام نوجوان اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ہے اسمبلیوں میں آنے کیلئے پہلے بی اے کی شرائط عائد کی گئی اورانتخابی اخراجات کواس قدربڑھادیا کہ عام آدمی الیکشن لڑنے کا خیال بھی دل میں نہیں لاسکتا ہے آج کے نوجوان کے پاس کہنے کوکچھ بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ بہت کچھ کہتا ہے نوجوان بڑے فلسفانہ طریقے سے کرکٹ اورکھلاڑیوں پرتبصرے کرتے ہوئے ملتے ہیں ،فلموں اورفلمی لوگوں پربحثیں ہوتی ہیں لیکن وہ اپنے گھر ،اپنے شہراپنے اردگرد اورملکی مسائل کے حوالے سے قطعی لاتعلق ہیں اوربعض ڈگری ہولڈریا چندمعلومات رکھنے والے نوجوان اس طرح بات چیت کرتے ہیں کہ جیسے بڑے عالم فاضل ہولیکن اس قدر بے سروپا اورایسے خیالات کااظہارکرتے ہیں کہ جن کاکوئی سرپیرنہیں ہوتا ہے اوراپنی بات خواہ مخواہ منوانے پرتلے ہوئے ہوتے ہیں یہ صورتحال ان کی معصومیت پردلالت کرتی ہے کیونکہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں اوران کے اندر ایک شعلہ جوالہ ہوتا ہے لیکن وہ حالات کی ستم گری کے باعث اپنی بات کومعقول اورباوقاربنانے کیلئے مطالعہ نہیں کرپاتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی ایسے ذرائع ہوتے ہیں کہ انہیں کوئی راہنمائی کرے کہ وہ کیا پڑھیں اورکیا نہ پڑھیں اسی ہی صورتحال کے بعدمیں ان کا رحجان بن جاتی ہے وہ کچھ پڑھے اورجانے بغیر ہی خود کواہل علم باخبر اورباشعورثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں اوربات بات میں ٹانگ اڑانا ان کی عادت ثانیہ بن کررہ جاتی ہے اوربدقسمتی سے ٹی وی پروگرام ،اخبارات میں چھپنے والا زیادہ ترمواد تنقید،گالم گلوچ اورمنصوعی ہوتا ہے علمی اورفکری حوالے سے بہت کم مواد ٹی وی پروگراموں اوراخبارات میں ملتا ہے نوجوانوں کا مذہبی، سیاسی اورسماجی استحصال سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جاری ہے سیاسی ومذہبی جماعتیں نوجوانوں کی تعلیم وتربیت کی بجائے انہیں ایندھن کے طورپراستعمال کرتی ہیں جس سے نوجوان طبقات کی ذہنی صلاحیتیں مزید سلب ہوتی ہیں نوجوان سچائی کی تلاش کے بجائے عقیدتوں اورجذباتی لگاؤ کاشکارہوکراپنا آپ لٹاتے رہتے ہیں حالانکہ دنیا کی تاریخ اٹھاکردیکھیں توکامیاب قوم کی کامیابیوں میں اس قوم کے نوجوانوں کاکردار اہم اورکلیدی نظرآتا ہے اورنوجوانوں میں ہی وہ قوت اورجذبہ کارفرماہوتا ہے کہ وہ مقاصد کے حصول کیلئے بڑی سے بڑی مشکلات اوردشواریوں کوروندتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں 67سال گزرنے کے باوجود بھی پاکستان ایک مضبوط اورطاقتورملک اس لئے نہ بن سکا کہ سامراجی قوتوں کے آلہ کاروں نے ہمارے نوجوانوں کی قوتوں کوراہ منزل سے ہٹا کرضائع کردیا اوروہ مسلسل نوجوانوں کے اعلیٰ اذہان کوپستی میں بدلنے کیلئے کوشاں ہیں اب یہ نوجوانو ں پرذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سامراجی ایجنٹوں اوراستحصالی قوتوں کے بچھائے ہوئے جال سے نکلیں اور غیرت حمیت خود میں پیداکریں اورخود کوتیارکریں کہ انہوں نے قیام پاکستان کے مقاصد کی منزل حاصل کرنا ہے اورپاکستان کوسیاسی جگادروں سامراجی دلالوں اوراستحصالی قوت سے آزاد کرانا ہے اورقومی آزادی کی جنگ جیت کرپاکستان اورقوم کوایک آبرومندانہ فتح مندانجام تک پہنچاکرکامیاب قوموں کی صف میں باوقارطریقے سے کھڑا کرناہے اوریہ کارہانے نمایاں صرف اورصرف نوجوان نسل ہی انجام دے سکتی ہے انہیں اپنے ہونے کاثبوت دینا ہے اوراپنی ذمہ داریوں کااحساس کرنا ہے اوریہ تب ہی ممکن ہوگا جب نوجوان نسل فرسودہ رسومات اورروایتوں اورنظام سے بغاوت کرتے ہوئے خود کوعلم وآگہی کے ہتھیاروں سے مسلح کریں گے کیونکہ کوئی بھی جنگ اس وقت تک نہیں جیتی جاسکتی ہے جب تک اس جنگ کے سپاہی نظریات کے ہتھیاروں سے مسلح نہ ہوآج ہم اپنی نظریاتی جنگ ہارچکے ہیں اور ہماری نظریاتی سرحدیں ٹوٹ پھوٹ کاشکارہیں جس کے باعث آج نوجوان طبقات علمی اورفکری انحطاط کاشکار ہوکراپنی نظریاتی سرحدوں کواپنے ہی پاؤں تلے روند رہے ہیں لیکن انہیں اس بات کابھی احساس نہیں ہے کیوں کہ اغیارنے سب سے پہلے توان کایہی احساس چھینا ہے نوجوان طبقات کواپنی اصل کی طرف آنا ہوگا اورانہیں سچائی کی تلاش کرنا ہوگی اوراپنی تقدیرکے فیصلوں کواپنے ہاتھ میں لینا ہوگا وگرنہ بے روزگاری ہمارا مقدررہے گی بے یقینی ، بے چینی ، فساد، خودکش دھماکے اورلڑائیاں ختم نہیں ہونگی استحصال جاری رہے گا سیاست امیروں کے گھرکی لونڈی رہے گی اورحکومت کرنے کاحق بھی صرف چندخاندانوں کی میراث بن کررہ جائے گا آج بلاول زرداری توکل حسن نوازہوگا کبھی کسی محنت کش کابیٹا ایم پی اے بننے کاخواب بھی نہیں دیکھ سکے گا ہمیں خواب خرگوش سے جاگنا ہوگا اسی میں ہماری بقا ہے اگرنوجوانوں نے اپنے قدم نہ بڑھائے اوراپنی سوچوں پرچڑھے جذبات اورمصنوعی خیالات کے جالے نہ ہٹائے توپھراگلے67سال بھی میں ہمیں ماضی کے جیسے نتائج بھگتنا پڑیں گے اورہماری پستیوں اورکمزوریوں پردولت کے پجاری سیاست کریں گے اورہماری لاشوں پرسے گزرکراقتدار کے ایوانوں میں جائیں گے اورہمارے ہی خون پیسنے کی کمائی اورہماری ایک ایک نس سے خون نچوڑ کراپنے بنک بیلنس بڑھائیں گے اوراپنے بچوں کی عیاشیوں کیلئے سامان عیش وعشرت خریدیں اوربڑے بڑے محل تعمیرکریں گے جن کی ایک ایک انیٹ میں ہماری نسلوں کا خون جما ہوگا۔
Posted in Uncategorized | Leave a comment